تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 137
فرماتا ہے فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِینَتَہٗ عَلیٰ رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَالتَّقْویٰ وَکَانُوْٓا اَحَقَّ بِھَا وَاَھْلَہَا (الفتح :۲۷) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اپنی کتاب پر ایمان لانے والوں پر سکینت اور اطمینان نازل کیا اور اُن سے تقویٰ کی حقیقت کو وابستہ کر دیا اور مومن بالقرآن ہی حقیقت تقویٰ کے مستحق اور اس کے اہل ہیں۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے ذریعہ سے اور اس پر ایمان لا کر انسان کو کامل تقویٰ میسر آتا ہے بلکہ ایسا تقویٰ میسر آتا ہے جو دائمی ہوتا ہے۔بلکہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقویٰ کے اہل اور اس کے ساتھ حقیقی تعلق رکھنے والے صرف مومنین قرآن ہیں۔اس آیت کی موجودگی میں یہ اعتراض کرنا کہ گویا قرآن کریم صرف متقیوں کو ہدایت دینے کا دعویٰ دار ہے تقویٰ پیدا کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا بالبداہت باطل ہے۔اس کے برخلاف قرآن کریم تو اس امر کا مدعی ہے کہ حقیقی تقویٰ صرف قرآن کریم پر ایمان لانے سے پیدا ہو سکتا ہے۔قرآن کریم میں سب بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہے اس آیت کے علاوہ قرآن کریم کی اور بہت سی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم صرف متقیوں کے لیے ہدایت نہیں بلکہ سب بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہے خواہ وہ روحانی زندگی میں اعلیٰ مقام پر ہوں یا ادنیٰ پر۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى (آل عمران:۱۳۹) یہ قرآن تمام انسانوں کے لئے ضروری امور بیان کرتا ہے اور انہیں ہدایت دیتا ہے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ قرآنی ہدایت صرف متقیوںکےلئے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لئے ہے۔اسی طرح ایک اور جگہ قرآن کریم میں ہے هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى (البقرة :۱۸۶) یعنی قرآن کریم سب انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی تمام اقسام بیان کی گئی ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ (الکھف :۵۵) یعنی اس قرآن میں تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے خواہ متقی ہو ںیا غیر متقی ہربات اعلیٰ سے اعلیٰ پیرایہ میں بیان کر دی گئی ہے یعنی ہر انسان کی حالت کے مطابق اس میں ایسی تعلیم ہے جو اسے اوپر کے درجہ کی طرف لے جاتی ہے اور اس کی روحانی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔اسی طرح فرماتا ہے وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ (الروم:۵۹) اس آیت کے بھی قریباً وہی معنے ہیں جو اوپر کی آیت کے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ پہلی آیت میں صَرَّفْنَا کہا گیا تھا یہاں ضَرَبْنَا کہا گیا ہے۔اور صَرَّفْنَا میں اس امر پر زور ہے کہ مختلف پیرایوں سے اس ہدایت کو بیان کیا ہے۔اور ضَـرَبْنَامیں اس امر پر زور ہے کہ فطرت کی صحیح مثالوں اور واضح نمونوں کے مقابل پر رکھ رکھ کر ہدایت کو بیان کیا گیا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔