تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 131

نسخوںمیں نہیں پائی جاتی۔عیسائی علماء کا اپنا اقرار کہ بعض آیتیں جو اناجیل میں درج تھیں وہ در حقیقت اناجیل کا حصہ نہیں تھیں۔اور پُرانے نسخوں کا آپس میں اختلاف کہ بعض آیتیں بعض میں پائی جاتی ہیں اور بعض میں نہیں۔یہ امور اس بات کا صاف اور واضح ثبوت ہیں کہ موجودہ اناجیل شک اور شبہ سے پاک نہیں بلکہ اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہیں کہ وہ ملاوٹ سے ہر گز محفوظ نہیں۔اور خود عیسائیوں کے مسلمات کے رو سے محرّف اور مبدّل ہیں۔پس ایسی کتب کی موجودگی کے باوجود خواہ وہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کی جاتی ہوں یقینا ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جس کا ہر ہر لفظ قطعی اور یقینی ہو اور جس کی حفاظت کا دشمن اور دوست کو اقرار ہو۔اور اس ضرورت کو قرآن کریم نے پورا کیا۔اور اس آیت میں اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم کے متعلق یہ اعتراض کرنا کہ پہلی کتب کی موجودگی میں اس کی کیا ضرورت ہے ایک بے معنے اعتراض تھا کیونکہ محرف مبدل کتب خود ایک محفوظ کتاب کا مطالبہ کرتی تھیں جس پر لوگ اس یقین سے عمل کر سکیں کہ اس کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔پس قرآن کریم نے اپنی ضرورت کی تائید میں اپنے کامل ہونے کی دلیل کے ساتھ یہ دلیل بھی پیش کی کہ ایمان کے لئے اس کتاب پر کامل یقین ضروری ہے جس پر عمل کرنے کا حکم دیا جائے اور قرآن کریم سے پہلے کی سب کتب اپنی موجودہ شکل میں مجروح اور مشکوک ہو چکی ہیں۔پس ایک ایسی کتاب کی ضرورت پیدا ہو چکی ہے جس کے لفظ لفظ کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے میں شک نہ کیا جا سکے۔پس اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے تاکہ جو لوگ اس پر عمل کریں اس یقین کے ساتھ عمل کریں کہ یہ تمام کا تمام محفوظ ہے اور ہر ہر لفظ اس کا اسی طرح ہے جس طرح خدا تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کے بعد کوئی شخص قرآن کریم کی ضرورت کا انکار نہیں کر سکتا اورجس کے بعد پہلی کتب کا موجود ہونا اس کی ضرورت کو باطل نہیں کر سکتا۔علاوہ ازیں ان الفاظ میں یہ پیشگوئی بھی کر دی گئی ہے کہ یہ کتاب ہمیشہ محفوظ رہے گی اور کبھی بھی انسانی دستبرد کاشکار نہ ہو گی۔قرآن مجید میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے انسان دین و دنیا میں نقصان اٹھائے ۳۔رَیْب کے ایک معنے ہلاکت اور تباہی کے بھی ہیں۔ان معنوں کے رُو سے لَارَیْبَ فِیْہِ کے یہ معنے ہوں گے کہ یہ کتاب نہ نوٹ۔بعض آیات جو پہلے ۱۹۳۰ء کے نسخوں سے نکال دی گئی تھیں۔۱۹۳۸ء کی مطبوعہ بائبل میں دوبارہ بریکٹوں میں بطور حاشیہ تبدیلی ٔ حروف کے ساتھ لکھ دی گئی ہیں یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ بائبل الہامی کتاب نہیں بلکہ ایک کھیل ہے۔جب چاہا کسی آیت کو داخل کر دیا۔جب چاہا خارج کر دیا۔