تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 128
اُس نے اُسے مو آب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا۔پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا۔‘‘ (استثنا باب ۳۴ آیت ۵،۶) پھر آیت۱۰ میں لکھا ہے کہ ’’اب تک بنی اسرائیل میں موسیٰ کی مانند کوئی نبی نہیں اٹھا جس سے خداوند آمنے سامنے آشنائی کرتا۔‘‘ اب ہر اک شخص سمجھ سکتا ہے کہ موسیٰ پر یہ کلام نازل نہیں ہو سکتا تھا کہ پھر موسیٰ مر گیا اور اب تک اس جیسا شحص کوئی پیدا نہیں ہوا۔ضرور ہے کہ یہ فقرہ تورات میں موسیٰ کی وفات کے لمبے عرصہ بعد بڑھایا گیا ہو۔بائبل کے بعض اندرونی اختلافات واضح الحاقی عبارتوں کے علاوہ بائبل میں ایسے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں جن کی موجودگی میں کسی صورت میں بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کتاب اس شکل میںموجود ہے جس شکل میں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے کلام میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔مثال کے طور پر اختلافات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔بائبل کے بعض اندرونی اختلافات پیدائش باب ۱میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے حشرات الارض اور جنگلی جانور پیدا کئے اور اس کے بعد انسان کو پیدا کیا۔(آیت ۲۴ و ۲۵،۲۶) لیکن پیدائش باب ۲ میں لکھا ہے کہ آدم کی پیدائش کے بعد جانور اور آسمان کے پرندوں کو بنایا گیا۔آیت ۱۹۔اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق پیدائش باب ۷میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو کہا کہ سب پاک جانوروں میں سے سات سات نر اور ان کے مادے اپنی کشتی میں رکھ لے اور نوح نے ایسا ہی کیا (آیت ا،۲،۵ )لیکن اسی باب کی ۸ اور ۹ آیت میں لکھا ہے کہ پاک چار پایوں میں سے دو دو نر اور مادے نوح کی کشتی میں داخل ہوئے جیسے کہ خدا نے فرمایا تھا۔گویا ایک ہی جگہ پر دو تین آیتوں کے فرق پر اس قدر اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔دو تین آیتوں پہلے تو کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے سات سات جانور رکھنے کا حکم دیا اور نوح نے سات سات جانور ہی رکھے۔لیکن دو تین آیتوں بعدیہ کہا گیا ہے کہ خدا نے دو دو جانور رکھنے کا حکم دیا تھا اور نوح علیہ السلام نے دو دو جانور ہی رکھے۔اس قسم کے بیسیوں اختلافات تورات میں پائے جاتے ہیں جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب اس شکل میں موجود نہیں جس شکل میں کہ موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی ورنہ ایسے صریح اختلافات پائے نہ جاتے۔انجیل غیر الہامی ہے انا جیل کی بھی یہی حالت ہے اول تو اس امر کا ہی کوئی ثبوت نہیں کہ کون سی انجیل الہامی ہے اور کون سی نہیں کیونکہ اناجیل کئی ہیں۔ان میں سے بِلا کسی دلیل کے محض قرعہ ڈال کر چار انجیلوں کا انتخاب کر لیا گیا ہے اور یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ یہ زیادہ معتبر ہیں۔پھر جو چار انجیلیں منتخب کر کے بنیادی کتب قرار دی گئی ہیں ان میں بھی