تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 114
کو پیدا کیا ہے اس قانون کے خلاف وہ نہیں جا سکتے۔بیشک خواص اشیاء میں بھی تغیرات ہوتے ہیں مگر وہ تغیرات بھی دوسرے طبعی قانونوں کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ اس دنیا میں ایک قانون صفتِ عزیز کے ماتحت جاری ہے جس سے خدا تعالیٰ کے غلبہ اور قدرت کا اظہار ہوتا ہے۔اس قانون کی ہر کہ ومہ پوری پابندی کرتا ہے اور پابندی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ملوکی قانون کی طرح اس کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی اور یہ قانون ایک عزیز ہستی پر دلالت کرتا ہے۔پھر فرمایا ہے کہ شاید کسی کو اعتراض ہو کہ زبردستی اور جبر سے کام لینا تو اچھا کام نہیں تو اس کا یہ جواب دیا کہ نہ ہر امر میں قدرت دینا اچھا ہے او رنہ ہر امر میں جبر جائز ہے۔قدرت اپنی جگہ اچھی ہے اور جبر اپنی جگہ جائز ہے اور یہ دونوں امرحکمت کے ماتحت برتے جائیں تبھی نتائج اچھے نکلتے ہیں اگر قانونِ قدرت نہ بنایا جاتا تو تمام علمی ترقی انسان کی محدود ہو جاتی کیونکہ کیمیا اور فزکس اور بایالوجی اور زوالوجی وغیرہ تمام علوم کی بنیاد ہی غیر متبدل قوانین اور خواص پر ہے۔اگر آگ کبھی جلاتی اور کبھی پیاس بجھاتی اور پانی کبھی سرد کرتا اور کبھی آگ لگاتا تو کارخانۂ عالم ہی درہم برہم ہو جاتا۔غرض قانونِ قدرت ہو یا قانونِ فطرت ہو ان کا غیر متبدّل ہونا زبردست حکمتوں کے ماتحت ہے اور بلاوجہ اوربے فائدہ نہیں ہے۔خلاصہ یہ کہ اس آیت میں آسمان و زمین کی پیدائش کو خدا تعالیٰ کی چار صفات اَلْمَلِک۔اَلْقُدُّوْس۔اَلْعَزِیْز اور اَلْحَکِیْم کا ظاہر کرنے والا بتایا گیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جو فعلِ الٰہی ان چار صفات کا اور خصوصاً حکمت ِ الٰہی کا ظاہر کرنے والا ہو اس پر نادم ہونے یا پچھتانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔معمولی سے معمولی شخص بھی اچھے کام پر پچھتایا نہیں کرتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے خاص اسی مضمون کو لے کر بھی وضاحت سے اس کی تردید کی ہے۔فرماتا ہے۔وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا لٰعِبِيْنَ(الدخان:۳۹) یعنی آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ہم نے اس کو یونہی بے سوچے ہوئے پیدا نہیں کیا یہ ہمارا کام کوئی کھیل نہیں بلکہ حکمت اور حق کے ساتھ اس کی پیدائش ہوئی ہے۔اس مضمون کی تائید میں فرماتا ہے۔خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ (العنکبوت:۴۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ایک نہایت پختہ اور اٹل قانون کے ماتحت بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ کے متعلق سب سے بڑا اتہام شرک کا ہے۔قرآن کریم سب کا سب اسی اتہام کے ردّ کے دلائل سے بھرا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کے شریک کئی قسم کے تجویز کئے گئے ہیں۔بعض نے دو خدا تجویز کئے ہیں۔ایک نور کا اور