تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 110
آسان ہوتا ہے اور <mark>اعتراض</mark>وں پر ہی مختلف مذاہب کے مدعی اپنی تبلیغ کی بنیاد رکھتے ہیں لیکن قرآن کریم ابتدا ہی <mark>اس</mark> طرح کرتا ہے کہ اپنی ضرورت کے ثبوت کے لئے پہلے مذاہب کے نقائص کو پیش نہیں کرتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ میرا الکتاب یعنی کامل کتاب ہونے کا دعویٰ <mark>اس</mark> امر پر مبنی نہیں کہ دوسری کتب میں نقص ہیں اور مجھ میں نہیں ہیں دوسروں کے مقابل میں نسبتی کمال کو اپنے سچا ہونے کی دلیل نہیں دیتا بلکہ بغیر کسی مذہب پر اتہام لگانے کے اپنے ذاتی کمالات اور اپنے فضائل اور <mark>دین</mark>ی امتیازی تعلیمات سے اپنی ضرورت اور اپنی صداقت کو ثابت کرتا ہوں۔یہ مقام کیسا شاندار ہے اور پھر ساتھ ہی کیسا مشکل بھی! مگر قرآن کریم <mark>اس</mark>ی کو اختیار کرتے ہوئے اپنی صداقت کو کامیاب طور پر ثابت کرتا ہے۔قرآن مجید میں کسی پر کوئی اتہام نہیں لگایا گیا قرآن کریم اپنی سچائی کی دلیل یہ نہیں دیتا کہ دوسرے مذہب جھوٹے ہیں <mark>اس</mark> لئے ایک سچے مذہب کی ضرورت تھی جسے وہ پورا کرتا ہے بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ (الفاطر:۲۵)کوئی قوم بھی <mark>ایسی</mark> نہیں جس میں خدا تعالیٰ کا نبی نہ گذرا ہو اور <mark>اس</mark>ی طرح فرماتا ہے لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد :۸) اور ہر قوم میں ایک ہادی ہماری طرف سے آ چکا ہے اور <mark>اس</mark>ی طرح وہ تمام اقوام کے متعلق اصولی طور پر <mark>اس</mark> امر کو تسلیم کر لیتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کے سمجھانے کے لئے بھی اپنی طرف سے ہدایت نامے بھجواتا رہا ہے اور اصولی طو رپر تمام مذاہب کو جو خدا تعالیٰ کی تصدیق کی مُہر رکھتے ہیں جھوٹ اور فریب سے بَری قرار دیتا ہے اور ان کی سچائی کا اقرار کرتا ہے برخلاف مثلاً یہود نصاریٰ اور آریو ںکے مذاہب کے کہ وہ اپنے سوا دوسرے مذاہب کو جھوٹا قرار دیتے ہیںاور یہ خیال کرتے ہیں کہ تورات انجیل اور وید کے سوا باقی سب <mark>جگہ</mark> ظلمت ہی ظلمت ہے اور ان اقوام کے سوا اللہ تعالیٰ نے باقی سب اقوام کو ہدایت کے سامانوں سے محروم کر دیا تھا بلکہ حق تو یہ ہے کہ <mark>اس</mark>لام کے سوا اور سب ادیان کسی نہ کسی شکل میں دوسرے مذاہب کو جھوٹا یا ادنیٰ ہی قرار دیتے ہیں لیکن <mark>اس</mark>لام ایسا نہیں کرتا وہ ہر زمانہ اور ہر قوم کے لئے آسمانی ہدایت کو ضروری قرار دیتا ہے اور اپنے اپنے زمانہ کے لئے سب کو کامل اور انسانی حاجتو ںکو پورا کرنے والا تسلیم کرتا ہے اور <mark>اس</mark> طرح قرآن کریم دوسرے مذاہب سے اتہام سے پاک ہونے میں بالکل ممتاز ہے۔توریت میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر اتہام اور <mark>اس</mark> کا ردّ قرآن مجید میں اگر تفصیلات کو دیکھا جائے تو <mark>اس</mark> میں بھی قرآن کریم کو اتہام سے پاک ہونے میں دوسرے مذاہب کے مقابل پر ایک امتیاز حاصل ہے سب سے ضروری وجود مذہب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا ہے وہ تمام مذاہب کا مرکزی نقطہ ہے۔بظاہر یہ نہیں خیال کیا ج<mark>اس</mark>کتا