تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 94

سے شروع ہوتی ہے پھر سورہ آل عمران الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہے پھر سورۂ نساء ،سورۂ مائدہ، سورہ انعام حروف مقطعات سے خالی ہیں پھر سورۂ اعراف الٓمّٓصٓ سے شروع ہوتی ہے اور سورۂ انفال اور براء ۃ خالی ہیں ان کے بعد سورۂ یونس، سورۂ ہود، سورۂ یوسف الٓـٰرسے شروع ہوتی ہیں اور سورہ رعد میں م بڑہا کر الٓمّٓرٰ کر دیا گیا ہے لیکن جہاں الٓمّٓصٓ میں ص آخرمیں رکھا یہاں م کو ر سے پہلے رکھا گیا ہے۔حالانکہ اگر کسی مقصد کے مدِّنظر رکھے بغیر زیادتی کی جاتی تو چاہیے تھا کہ میم کو جو زائد کیا گیا تھا۔ر کے بعد رکھا جاتا میم کو الٓـٰر کے درمیان رکھ دینا بتاتا ہے کہ ان حروف کے کوئی خاص معنے ہیںاور جب ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے الٓمّٓ کی سورتیں ہیں۔اور اس کے بعد الٓـٰر کی تو صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ مضمون کے لحاظ سے میم کو ر پر تقدم حاصل ہے اور سورۂ رعد جس میں میم او ر ر اکٹھے کردیئے گئے ہیں اس میں میم کو ر سے پہلے رکھنا اس امر کو واضح کر دیتا ہے کہ یہ سب حروف خاص معنے رکھتے ہیں۔اسی وجہ سے ان حروف کو جو معنی تقدم رکھتے ہیں ہمیشہ مقدم ہی رکھا جاتا ہے۔سورۂ رعد کے بعد ابراہیم اور حجر میں الٓـرٰ استعمال کیا گیا لیکن نحل، بنی اسرائیل اور کہف میں مقطعات استعمال نہیں ہوئے اور یہ سورتیں گویا پہلی سورتوں کے مضامین کے تابع ہیں۔ان کے بعد سورۂ مریم ہے جس میں کٓھٰیٰعٓصٓ کے حروف استعمال کئے گئے ہیں۔سورۂ مریم کے بعد سورۂ طٰہٰ ہے اور اس میں طٰہٰ کے حروف استعمال کئے گئے ہیں۔اس کے بعد انبیاء ،حج ،مؤمنون، نور اور فرقان میں حروف مقطعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔گویا یہ سورتیں طٰہٰ کے تابع ہیں۔آگے سورۂ شعراء طٰسٓمّٓ سے شروع کی گئی ہے گویا طاء کو قائم رکھا گیا ہے اور ھا کی جگہ س اور میم لائے گئے ہیں اس کے بعد سورہ نمل ہے جو طٰسٓ سے شروع ہوتی ہے اس میں سے میم کو اُڑا دیا گیا ہے اور طاء اور س قائم رکھے گئے ہیں اس کے بعد سورۂ قصص کی ابتدا پھر طٰسٓمّٓ سے کی گئی ہے گویا میم کے مضمون کو پھر شامل کر لیا گیا ہے۔اس کے بعد سورہ عنکبوت کو پھر الٓمّٓ سے شروع کیا گیا ہے اور دوبارہ علم ِ الٰہی کے مضمون کو نئے پیرایہ اور نئی ضرورت کے ماتحت شروع کیا گیا ہے (اگرچہ میں ترتیب پر اس وقت بحث نہیں کر رہا۔لیکن اگر کوئی کہے کہ الٓمّٓ دوبارہ کیوں لایا گیا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سورۂ بقرہ سے الٓمّٓ کے مخاطب کفار تھے اور یہاں سے الٓمّٓکے مخاطب مومن ہیں) سورۂ سجدہ کو بھی الٓمّٓ سے شروع کیا گیا ہے ان کے بعد سورۂ احزاب۔سبا۔فاطر۔بغیرمقطعات کے ہیں اور گویا پہلی سورتوں کے تابع ہیں۔ان کے بعد سورۂ یٰسٓہے جس کو یٰسٓ کے حروف سے شروع کیا گیا ہے۔اس کے بعد سورۂ صافات بغیر مقطّعات کے ہے اس کے بعد سورہ صٓ حرف ص سے شروع کی گئی ہے پھر سورئہ زمر حروف مقطّعات سے خالی اور پہلی سورۃ کے تابع ہے اس کے بعد سورۂ مومن حٰمٓ سے شروع کی گئی ہے اس کے بعد سورہ حٰمٓ سجدۃ کو بھی حٰمٓ