تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 94

دینی پڑی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور آپؐنے فرمایا۔عمرؓ میں نے اپنی بیویوں کو طلا ق نہیں دی۔صرف مصلحتاً کچھ وقت کے لئے ان سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے(بخاری کتاب المظالم باب الغرفة والعلية المشـرفة۔۔۔۔)۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے حقوق پر اتنا زور دیا کہ عورتوں میں بھی یہ احساس پیدا ہو گیا کہ وہ مردوں سے کم نہیں۔حضرت عمر ؓ کے زمانہ کے واقعات سے تو پتہ چلتا ہے کہ آپ اگر کوئی حکم دیتے تو بعض دفعہ عورتیں صاف صاف کہہ دیتیں کہ یہ حکم آپ کس طرح دے رہے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا ہے(تفسیر قرطبی زیر آیت النسآء :۲۰،۲۳)۔قطع نظر اس کے کہ وہ صحیح کہتی تھیں یا غلط اس سے اتنا تو معلوم ہو گیا کہ اسلام نے عورت کو اجتماعی معاملات میں رائے دینے کا حق دیا ہے اور اس پر اتنا زور دیا ہے کہ اس کی مثال دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں مل سکتی۔پھر فرمایا۔عورت کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہیں ہو سکتی(ابو داؤد کتاب النکاح باب في البكر يزوجها ابوها ولا يستأمرها)۔اسلام سے پہلے یہ رواج تھا کہ والدین جہاں چاہتے عورت کی شادی کر دیتے۔اس کی مرضی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا تھا اور عورت کو ان کی بات ماننی پڑتی تھی۔مسلمانوں نے بھی اس زمانہ میں اگرچہ یہ حق تلف کر دیا ہے مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اسلامی تعلیم ناقص ہے۔اسلام نے یہاں تک کہا ہے کہ عورت کی مرضی کے بغیر اگر کوئی شادی ہو تو وہ باطل ہے۔کتنا بڑا حق ہے جو قرآن کریم نے عورتوں کو دیا ہے۔پھر قرآن کریم میں دیکھ لو۔بچے کا دودھ چھڑا نا بھی عورت کی مرضی پر رکھا ہے اور اسے ایسی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اس کی مثال اور کسی کتاب میں نہیں ملتی۔پھر عورت کو الگ گھر کا حق دیا ہے۔اس کا مہر مقرر کیا ہے اور کہا ہے کہ عورت اپنی جائیداد کی آپ وارث ہے۔یورپ میں اب قریباً پچاس سال سے عورتوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے۔ورنہ اس سے پہلے عورت کی جائیداد اس کی اپنی جائیداد نہیں سمجھی جاتی تھی۔بلکہ بعض لوگ نواب اور رئیس بن کر اور اپنے آپ کو مالدار ظاہر کر کے دھوکہ سے ان سے شادی کر لیتے تھے اور عورت کچھ نہیں کر سکتی تھی۔خاوند کو اختیار ہوتا تھا کہ وہ اس کی جائیداد کو بیچے یا رکھے۔لیکن اسلام نے عورت کی جائیداد کو اس کی ذاتی ملکیت قرار دیا ہے اور اس پر اتنا زور دیا ہے کہ صحابہؓ کو شبہ پڑ گیا کہ مرد کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ عورت کی جائیداد میں سے کچھ اس کی مرضی سے ہی لے لے۔چنانچہ اس کے لئے اسلام نے علیحدہ حکم دیا اور بتایا کہ تم عورت کا خوشی سے دیا ہوا تحفہ استعمال کر سکتے ہو۔غرض اسلام نے عورت کے حقوق کی جس طرح حفاظت کی ہے ویسی حفاظت اور کسی مذہب نے نہیں کی۔پھر سب سے مقدم ماں باپ ہیں۔ماں باپ کے ذریعہ سے نسل چلتی ہے۔انسان میں جو قابلیت پیدا ہوتی