تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 93
اتنا زور دیا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ نئے علوم کا ایک دروازہ کھل گیا ہے۔مثلاً نکاح کے موقعہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتین آیات منتخب فرمائیں(ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کا یہ انتخاب الہامی تھا)ان میںعورت کے حقوق پر بڑازور دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت پوری طرح واضح کی گئی ہے۔چنانچہ پہلی آیت کو ہی لے لو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا (النسآء:۲) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اس نے سب انسانوں کو نفسِ واحدہ سے پیدا کیا ہے یعنی مرد اور عورت دونوں ایک جنس سے ہیں۔دونوں ایک ہی قسم کا دماغ لے کر آئے ہیں۔ایک ہی قسم کے احساسات لے کر آئے ہیں اور ایک ہی قسم کے جذبات لے کر آئے ہیں۔دیکھو پہلے فقرہ میں ہی عورت کے حقوق پر کتنا زور دیا گیا ہے اور کس طرح بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ عورت میں دماغ نہیںاور تم جس طرح چاہو اس پر حکومت کر سکتے ہویا جس طرح چاہو اس سے سلوک کر سکتے ہو۔عورت بھی تمہاری طرح جذبات اور احساسات رکھتی ہے اور وہ بھی تمہاری طرح دماغ رکھتی ہے۔اس لئے اسے اپنے جیسا سمجھو۔ادنیٰ اور ذلیل قرار نہ دو۔اس اصولی تعلیم کے علاوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ انہیں اہم امور میں عورتوں سے مشورہ لینا چاہیے اور آپ خود بھی عورتوں سے مشورہ لیا کرتے تھے اور اس بارہ میں انہیں اس قدر آزادی حاصل تھی کہ احادیث میں آتا ہے آپ نے ایک دفعہ گھر سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا۔صحابہؓ میں یہ چرچا ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔حضرت عمر ؓ کی ایک بیٹی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں تھیں۔انہیں ایک دوست نے یہ اطلاع دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔حضرت عمرؓ یہ سنتے ہی پہلے اپنی بیٹی کے پاس گئے۔دیکھا تو وہ رو رہی تھیں۔آپ نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے باہر رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آپ گھر سے چلے گئے ہیں۔پھر حضرت عمر ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ بات یہ ہے کہ ہم تو عورتوں کو ڈنڈے سے سیدھا کیا کرتے تھے۔پھر آپ نے ایسی تعلیم دینی شروع کر دی کہ عورتیں ہمارے سر چڑھنے لگیں۔میں نے ایک دن اپنی بیوی سے کہا کہ تو اس معاملہ میں نہیں بول سکتی۔تو میری بیوی نے کہا چل چل وہ دن گئے جب ہمارا کوئی حق نہیں تھا۔اب تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی بیویوں سے مشورہ لیتے ہیں۔تم کون ہو جو مجھے روکو۔میں سمجھتا تھا کہ اس کا نتیجہ کسی دن برا ہی نکلے گا۔چنانچہ یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ آپ کو اپنی بیویوں کو طلاق