تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 92

اسلام کی تعلیم کا سواں حصہ بھی موجود نہیں۔دوسرے مذاہب کے روزوں کے مقابلہ میں اسلامی روزے روزے۔پھر روزہ ہے۔اجتماعی روزہ کسی اور قوم میں نہیں۔چندروزے عیسائیوں میں ہیں اور وہ بھی نامکمل شکل میں۔ہندوؤں میں بھی ایسے ہی روزے ہیں۔پنڈت کہے گا چولھے کی پکی نہیں کھانی اور ادھر چھ سیر کچا دودھ پی جائے گااور پھر کہے گا میرا روزہ ہے۔لیکن اسلام میں ایک مہینہ متواتر اور لگا تارروزے ہیں اور پھر ساتھ ہی یہ ہدایت ہے کہ صرف روزے ہی نہ رکھو بلکہ رمضان کے مہینہ میں خوب عبادتیں کرو اور دعاؤں پر زور دو۔بالخصوص رمضان کے آخری ہفتہ میں جس میں لیلۃ القدر ہو تی ہے پس روزہ میں بھی اسلام دوسرے مذاہب پر فضیلت رکھتا ہے۔حج اور اس کی حکمت حج۔اسلام کا ایک رکن حج ہے جو اجتماعِ قومی کا زبردست ذریعہ ہے۔دنیا کے کسی مذہب میں حج فرض نہیں۔لیکن اسلام نے سال میں ایک دفعہ تمام صاحبِ استطاعت لوگوں کو ایک مرکز میں اکٹھا ہو نے کا حکم دیا ہے۔اس سے کئی قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔جب امیر اور غریب،حاکم اور محکوم، عالم اور جاہل سب ایک جگہ اکٹھے ہوں گے تو وہ قومی ضروریات پر غور کریں گے۔اپنی کمزوریوں پر نگاہ دوڑائیں گے اوران کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اسی طرح حج کے ذریعہ اسلام نے مرکز کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔جس سے آگے قوم کی درستی ہوتی ہے اور وہ ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھا سکتی ہے غرض عبادت کو لے لو یا زکوٰۃ کو لے لو یا روزہ کو لے لو یا حج کو لے لو سب میں اسلام نے بنی نوع انسان کو جو تعلیم دی ہے اس کا عشرِ عشیر بھی کسی دوسرے مذہب میں نہیں پایا جاتا۔تفصیل شرائع اور اس کی وجہ سے اسلامی تعلیم کی فضیلت اصولِ شرائع میں قرآن کریم کی فضیلت ثابت کرنے کے بعد اب میں تفصیلِ شرائع کو لیتا ہوں اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صرف اصولی امور میں ہی قرآن کریم کو کتب سابقہ پر فوقیت حاصل نہیں بلکہ تفصیلِ شرائع میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر عطا ہوا ہے اور کوئی دوسری کتاب اس پہلو کے لحاظ سے بھی قرآن کریم کامقابلہ نہیں کر سکتی۔اسلام میں عورتوں کے حقوق تفصیل شرائع میں جو چیز سب سے پہلے آتی ہے وہ عورتوں کے حقوق کا مسئلہ ہے۔قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے آپ کے جوڑے کا بھی ذکر کیا ہے جس سے آگے سلسلۂ مخلوقات چلا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی تمام کتابوں کو پڑھ جاؤاُن میں عورتوں کے حقوق کا پتہ ہی نہیں چلے گا اور نہ کسی کتاب نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عورت بھی انسانیت کا ایک جزو ہے۔قرآن کریم وہ پہلی کتاب ہے جس نے عورت کے حقوق کو تسلیم کیا ہے اور صرف تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ اس پر