تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 91
پیاساتھا جسے تم نے پینے کو دیا اور جب میرا کوئی بندہ بیمار ہوا اور تم اس کی عیادت کے لئے گئے تو گویا وہ بیمار میں ہی تھا جس کی تم نے عیادت کی۔پھر اللہ تعالیٰ بعض اور بندوں سے مخاطب ہوگا اور ان سے کہے گا کہ دیکھو میں بھوکا تھا مگر تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا، میں پیاسا تھا مگرتم نے مجھے پانی نہ دیا، میں ننگا تھا مگر تم نے مجھے کپڑا نہ پہنایا، میں بیمار تھا مگر تم نے میری عیادت نہ کی۔اس پر وہ کہیں گے کہ خدایا ایسا کب ہوا۔تو تو بڑی شان والا ہے۔اور تو بھوک اور پیاس اور بیماری اور ننگے ہو نے سے پاک ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تمہارے پاس میرے غریب بھوکے، پیاسے، ننگے اور بیمار بندے آئے اور تم نے ان کی خبر گیری نہ کی تو گویا میری ہی خبر گیری نہ کی۔اس لئے جاؤ اور اب اس کی سزا برداشت کرو(مسلم کتاب البر والصلۃ باب فضل عیادۃ المریض)۔پس صرف زکوٰۃ کا ہی سوال نہیں۔اگر زکوٰۃ دینے کے بعد بھی کوئی غریب نظر آتا ہے۔تو اسلام اس کی خبر کرنا ہر مسلمان پر فرض قرار دیتا ہے۔(۷) پھر اسلام نے مختلف غلطیوں کا کفارہ غرباء کی مدد کی صورت میں مقرر کیا ہے۔بعض مقامات پر غلاموں کی آزادی ضروری قرار دی ہے اور بعض جگہ انہیں کھانا اور لباس وغیرہ دینا کفارۂ گناہ کے طور پر لازمی قرار دیا ہے۔(۸) اس کے علاوہ اسلام نے ہر عبادت ِ نو پر غرباء کا حق مقرر کیا ہے۔مثلاً فرمایا۔تمہیں اللہ تعالیٰ نے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے تو غریبوں کوکھانا بھی کھلاؤ۔عید آرہی ہے تو غرباء کے لئے بھی صدقہ دو(بخاری کتاب الزکٰوۃ باب الصدقۃ قبل العید)۔حج کے لئے چلے ہو توغرباء کا بھی خیال رکھو۔(۹) فتوحات حاصل ہوں تو اس وقت بھی اسلام نے غرباء کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اموال میں ان کو بھی حصہ دار قرار دیا ہے۔(۱۰) پھر بچہ کی پیدائش ہو تو حکم دیا کہ عقیقہ کرو اور غریبوں کو کھانا کھلاؤ۔(ابن ماجۃ کتاب الذبائـح باب العقیقۃ) (۱۱) شادی پر حکم دیتا ہے کہ ولیمہ کرو اور غریبوں کو کھانا کھلاؤ۔(بخاری کتاب النکاح باب الولیمۃ) (۱۲) کسی کی وفات ہو جائے تو حکم دیا کہ تقسیم ورثہ کے علاوہ میّت کے مال میں سے کچھ یتیموں کو بھی دو۔(۱۳) ہر نئی فصل یا نئے پھل کے پیدا ہو نے پر غرباء کا حق مقرر کیا اور حکم دیا کہ وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ (الانعام:۱۴۲) آم، انگور، گیہوں، ماش اور کپاس غرض جو بھی چیز اپنے گھر لاؤ اس میں سے پہلے غرباء کا حق نکالو اور پھر اپنے استعمال میں لاؤ۔غرض ہر اہم موقع پر اسلام نے غرباء کے حقوق کو مدّ ِنظر رکھا ہے اور یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس کی مثال اور کسی مذہب میں نہیں ملتی۔دنیا کا کوئی مذہب نہیں جس نے اس عبادت کو اس طرح پیش کیا ہو۔بلکہ ان کی تعلیموں میں