تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 89
کی تمیز کروا دیتا ہے اور برائیوں سےروک دیتا ہے۔جیسے موٹر کی بریک ہو تی ہے عقل بھی انسانی دماغ کی بریک ہے۔(۸)ابصار۔قرآن کریم میں آتا ہے اَفَلَاتُبْصِرُوْنَ (القصص:۷۳) اس کے معنے ہیں روحانی آنکھ سے دیکھنا اس سے بھی بڑی بڑی باتیں نکلتی ہیں۔جن سے انسان کی اصلاح ہو تی ہے۔(۹،۱۰)رویت و نظر۔یہ دونوں قریب قریب معنوں والے الفاظ ہیں۔لیکن ان میں فرق بھی ہے۔جہاں تک ظاہر معنوں کا سوال ہے یہ آپس میں مشترک ہیں اور دیکھنے کےمعنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔لیکن ان میں فرق یہ ہے کہ رویت اس دیکھنے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ شعور قلبی شامل ہو اور نظر اس دیکھنے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ قوت فکریہ شامل ہو۔غرض تفکّر، شکر، تذکّر، شعور، علم، فقہ، عقل، ابصار، رویت اور نظر، یہ دس اسلامی عبادت کے حصے ہیں۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں الگ الگ موقعوں پر بیان کیا ہے۔دنیا کا اور کوئی مذہب نہیں جس میں اس عبادت کا ایک حصہ بھی بیان ہوا ہو۔زکوٰۃ اور اس کی حکمت زکوٰۃ۔نماز فرض و نفل اور معیّن اور غیر معیّن کے بعد اب ہم زکوٰۃ کو لیتے ہیں۔اس مسئلہ کو بھی قرآن کریم نے جس تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے اس کی مثال کسی اور کتا ب میں نہیں ملتی۔یوں تو بائبل میں بھی لکھا ہے کہ دسواں حصہ زکوٰۃ دی جائے(استثناءباب ۱۴ آیت ۲۱،۲۲) اور ہندو ؤں میں بھی صدقہ و خیرات کی تعلیم ہے(ستیارتھ پرکاش سملاس گیارھواں سوال ۸۳) لیکن ان میں وہ تفصیلات بیان نہیں کی گئیں جو اسلام نے پیش کی ہیں۔(۱) اسلام سب سے پہلے یہ اصل بیان فرماتا ہے کہ تمام ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔وہ یہ تعلیم پیش کرتا ہے کہ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( المائدۃ:۱۲۱) آسمانوں اور زمین کی حقیقی مالکیت اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہےکسی انسان کو حاصل نہیں۔(۲)دوسرا اصل اسلام یہ پیش کرتا ہے کہ تمام ملکیت اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کے لئے پیدا کی ہے۔(۳) تیسرا اصل وہ یہ پیش کرتا ہے کہ اس کے سب بندوں کا حق سب ملکیت میں شامل ہے۔جیسے شاملات دیہہ ہوتی ہے اور اس میں ہر ایک کا حصہ ہو تا ہے۔اسی طرح اس ملکیت میں سب لوگ حصہ دار ہیں۔مگر شاملات دیہہ میں تو بعض کا حصہ زیادہ ہو تا ہےاور بعض کا کم۔خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے سب کا حق سب ملکیت میں مساوی قرار دیا ہے۔ان تین اصول کے نتیجہ میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ جب تمام بنی نوع انسان کا تمام ملکیت میں حق ہے تو وہ