تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 84

اسی طرح تم گھروں کو بھی مت سمجھو۔بلکہ کچھ نمازیں مسجد میں ادا کیا کرو اور کچھ گھروں میں ادا کیا کرو۔اس طرح خدا تعالیٰ نے چپہ چپہ زمین پر عبادت کے لئے رستہ کھول دیا۔پھر علاوہ معین صورت کی عبادت کے جیساکہ میں نے بتایا ہے ایک عبادت غیر معین صورت میں بھی ہو تی ہے اور وہ ذکر و فکر ہے۔یہ عبادت غیر معین صورت میں اس لئے رکھی کہ معین صورت کی نماز تو ہر وقت ادا نہیں ہو سکتی لیکن غیر معین صورت کی نماز ہر وقت ادا کی جا سکتی ہے۔سوتے جاگتے، چلتے پھر تے ہر حالت میں ذکر ہو جاتا ہے۔کسی شخص نے ایک بزرگ سے پو چھا کہ اگر ہم عبادت ہی کرتے رہیں تو ہم کام کیسے کریں؟ انہوںنے فرمایا دست درکار و دل با یار۔اپنے کاموں کو بھی کرتے جاؤ اور ذکر الٰہی بھی کرتے رہو۔پیشے کرو، تجارتیں کرو، دوسرے دنیوی کاروبار کرو مگر ساتھ ہی خدا تعالیٰ کو بھی یاد کرتے جاؤ۔حضرت مظہر جان جاناں ؒ ایک بہت بڑے بزرگ گذرے ہیں۔آپ شاعر بھی تھے آپ کے ایک شاگرد میاں غلام علی تھے جو آپ کےبہت مقرب مرید تھے ایک دن آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کوئی شخص آیا اور آپ کے لئےبالائی کے لڈو تحفہ کے طور پر لایا۔آپ کو بالائی کے لڈو بہت پسند تھے۔حضرت مظہر جان جاناں ؒ نے ان میں سے دو لڈو اٹھا کر اپنے شاگر میاں غلام علی کو دے دیئے اور کہا تمہیں بھی یہ پسند ہوں گے بڑے مزیدار ہو تے ہیں۔اس لئے یہ دو لڈو تم بھی لے لو۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نے پوچھا۔میاں غلام علی تم نے وہ لڈو کیا کئے؟ میاں غلام علی نے کہا حضور میں نے وہ کھا لئے۔آپ نے فرمایا اتنی جلدی کھا لئے؟ میاں غلام علی نے کہا وہ چیز ہی کیا تھے ایک ہی دفعہ منہ میں ڈالے اور گھل گئے۔آپ نے حیرت سے پوچھا اچھا وہ دونوں لڈو تم نے کھا لئے معلوم ہو تا ہے تمہیں لڈو کھانے نہیں آتے۔انہوں نے کہا آپ ہی بتا دیجئے کہ لڈو کس طرح کھائے جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا اچھا پھر کسی دن لڈو آئےتو میں تمہیں لڈو کھانے سکھاؤں گا۔چوتھے پانچویں دن پھر کوئی اور مرید لڈو لے آیا اور میاں غلام علی نے حضرت مظہر جان جاناں ؒ سے کہا کہ آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ تمہیں لڈو کھا نے سکھاؤں گا اب لڈو کھانا سکھا دیجئے۔حضرت مظہر جان جاناںؒ اور حضرت ولی اللہ شاہ صاحب ؒ کو صفائی کا خاص طور پر بہت خیال رہتا تھا۔حضرت ولی اللہ شاہ صاحبؒتو ہر روز دھلوا کر نیا جوڑا پہنا کرتے تھے۔جب دہلی کا بادشاہ آپ کا مرید ہوا تو وہ روزانہ آپ کو ایک نیا جوڑا سلوا کر بھیجا کرتا تھا۔حضرت مظہر جان جاناں ؒ بھی بڑی نفیس طبیعت کے تھے۔کسی چیز کو ٹیڑھی پڑی ہوئی دیکھ کر آپ غصہ میں آجاتے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص نے اس کو ٹیڑھا رکھا ہے اس کا دل کیسے صاف ہو گا۔ایک دفعہ آپ کے پاس ایک بادشاہ ملاقات کے لئے آیا۔اس کے وزیر کو پیاس لگی اس نے آبخورہ اٹھایا اور پانی پی لیا۔پانی پی کر اس نے