تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 77

کرکے نماز پڑھو ادھر ہی تم اللہ تعالیٰ کو پاؤ گے۔غرض عبادت کو اس کمال تک اور کسی مذہب نے نہیں پہنچایا اور یہ اس کی فضیلت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔(۳) پھر اسلامی عبادت میں جماعت کا اصل قائم کیا گیا ہے جو مذہب کی اصل غرض ہے۔ظاہر ہے کہ انسانی زندگی دو پہلوؤں پر مشتمل ہے انفرادی اور اجتماعی، مذہب، سیاست، قومیت، اخلاق، تمدن تمام امور میں ان دونوں پہلوؤں کا خیال رکھنا ضروری ہو تا ہے ورنہ انسانی سوسائٹی خراب ہو جاتی ہے۔جن اقوام نے مثلاًسیاست میں اجتماعی زندگی اورذمہ داریوں کا خیال نہیں رکھاوہ کمزور ہو گئی ہیں اسی طرح جن اقوام نے انسان کو محض مشین سیاست کا ایک پرزہ تجویز کر دیا ہے انہوں نے بھی انسانی ترقی کے راستوںکو مسدود کر دیا ہے جیسا کہ کمیونسٹ جماعت ہے۔اصل اور کامیاب طریقہ یہی ہے کہ انفرادیت اور اجتماعیت دونوں کو ایک وقت میں اور توازن کے ساتھ قائم رکھا جائے۔مذہب میں بھی یہی طریقہ کامیاب اور مفید ہو سکتا ہے اور اسلام ہی ہے جس نے کہ اس طریقہ کو مدّ ِنظر رکھا ہے اور تمام مذاہب میں سے پہلی دفعہ مذہب میں اجتماعی روح کو ایک مقرر اور معزز مقام عطا کیا ہے۔مثلاً نماز ہےیوں تو جیساکہ میں نے بتایا ہے دوسری قوموں کے لوگ بھی عبادت کے لئے جمع ہو تے ہیں۔عیسائی گرجوں میں ہندو مندروں میں اور سکھ گوردوارو ں میں۔لیکن وہ جماعتی رنگ جو اسلام کی نماز میں پایا جاتا ہے وہ دوسری قوموں میں نہیں۔پھر ان کے نزدیک جماعت فرض نہیں یہ نہیں کہ جو شخص عبادت کے لئے جماعت میں شامل نہ ہو گناہ گار ہو جاتا ہے۔لیکن اسلام میں نماز باجماعت کو فرض قرار دیا گیا ہے اور اس میں سوائے معذوروں کے سب کا آنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔آج بے شک مسلمانوں میں الحاد پیدا ہو گیا ہے اور وہ نماز کے لئے مسجدوں میں نہیں آتے لیکن سوال ان کے عمل کا نہیں بلکہ اسلامی تعلیم کا ہے اور اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ نماز با جماعت فرض ہے اور ہر مسلمان باوجود اپنی عملی کمزوریوں کے یہ تسلیم کرتا ہے کہ نماز با جماعت فرض ہے۔پس اسلامی عبادت اور دوسرے مذاہب کی عبادات میں یہ ایک بہت بڑا فرق ہے کہ اسلام نے باجماعت نماز فرض قرار دی ہے جبکہ دوسرے مذاہب نے اسے فرض قرار نہیںدیا یہ امر ان کی مرضی پر منحصر ہو تا ہے کہ وہ عبادت کے لئے آئیں یا نہ آئیں۔پھر ہماری نماز اتنےاوقات میں مقرر ہے کہ دوسرے مذاہب میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی مثلاً(۱) سورج نکلنے سے پہلے نما ز ہے (۲) زوال کے بعد نماز ہے (۳) سورج کے غروب کے قریب نماز ہے (۴) سورج کے غروب ہو نے کے بعد نماز ہے (۵) رات کو سو نے سے پہلے نماز ہے اور یہ پانچ نمازیں فرض ہیں۔یہ نہیں کہ ان کی ادائیگی کسی کی مرضی پر منحصر ہو اس قدر عبادت اور پھر با جماعت عبادت اوروں میں کہاں پائی جاتی ہے۔اس وقت مسلمان بے دین ہو چکے ہیں لیکن اب بھی جو