تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 67

جاتا ہے اس لئے کہ وہ بڑے لوگوں کو پڑھاتا ہے اور اس کے شاگرد بڑے درجہ کے ہو تے ہیں اور دوسرے کو چھوٹا کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ چھوٹوں کو پڑھاتا ہے اور اس کے شاگرد چھوٹے درجہ کے ہو تے ہیں۔اسی طرح نبی تو سارے ہیں مگر بڑا نبی وہی ہو گا جس کے مخاطب بڑی قابلیت کے ہوں۔اس حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے اور اس کے رسول یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے وہ ایسے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص انعامات نازل کئے یعنی نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صلحاء کے گروہ میں اور یہ بہترین رفیق ہیں گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں کے متعلق فرمایا کہ وہ نبیوں میں شامل ہوں گے، وہ صدیقوں میں شامل ہوں گے، وہ شہیدوں میں شامل ہوں گے، وہ صلحاء میں شامل ہو ں گے لیکن جہاں باقی نبیوںکا ذکر فرمایا ہے وہاں نبیوں کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ فرما تا ہے۔وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ۠١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ (الحدید:۲۰) یہاںرسول نہیں کہا بلکہ رُسل کا لفظ استعمال کیا ہے جس میں انبیاء سابقین کی طرف اشارہ ہے اور فرماتا ہے کہ دوسرے رسولوں کے کامل متبع صرف صدیق اور شہید بن سکتے تھے نبی نہیں بن سکتے تھے۔گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ نمایاں سلوک ہے کہ آپ کے کامل متبع نعمت نبوت بھی حاصل کر سکتے ہیں جبکہ پہلے نبیوں کی اتباع میں صرف صدیقیت اور شہادت کا درجہ مل سکتا تھا۔اس بات کا ثبوت اس حدیث سے بھی ملتا ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لَوْکَانَ مُوْسیٰ وَعِیْسٰی حَیَّیْنِ لَمَاوَسِعَھُمَا اِلَّااتِّبَاعِیْ(الیواقیت الـجواہر الـجزء الثانی صفحہ ۳۴۲) یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام زندہ ہوتے تو میری اطاعت اور فرمانبرداری کے سوا ان کے لئے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسرے نبیوں پر یہ مقامِ فضیلت عطا فرمایا ہے کہ آپ کے کامل شاگرد نبوت کے مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔مگر ایسی نبوت جو ظلّی اور بروزی ہو۔یعنی نبی ہو نے کے باوجود وہ آپؐکے کامل غلام اور شاگرد ہوں گے۔بعض لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں کیونکہ نبی کے نام میں ہم اَوروں کو بھی آپ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔مگریہ اعتراض قلت تدبر کا نتیجہ ہے دنیا میں ہزاروں جگہ یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ استاد بھی ایم اے ہو تا ہے اور اس کا شاگرد بھی ایم اے ہو تا ہے مگر کیا وہ دونوں ایک ہو تے ہیں؟ کیا لوگ یہ نہیں دیکھتے کے کالج کا پرنسپل بھی ایم اے ہوتا ہے دوسرے پروفیسر بھی ایم اے ہو تے ہیں اور آگے ان کے شاگرد بھی ایم اے پاس کر لیتے ہیں اس میں ان کی کیا ہتک ہو جاتی ہے۔جس پروفیسر کے زیادہ شاگرد پاس ہوکر ایم اے