تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 66

اس کے لئے آپؐمہر تھے یعنی آپ سے باہر جا کر اور آپ سے الگ ہو کر کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔اگر کوئی کہے کہ کیوں ایسا نہیں ہو سکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن زندہ دلیل موجود ہے۔دوسرا آزاد نبی تبھی آیا کرتا ہے جبکہ پہلے نبی کی کتاب میں خرابی پیدا ہو گئی ہو مگر قرآن کریم پہلے دن کی طرح اپنے الفاظ میں اور تاثیر میںمحفوظ ہے۔اس کے الفاظ کی حفاظت کے دشمن بھی اقراری ہیں۔اس کی تاثیر کے شاہد وہ روحانی بزرگ ہیں جو ہر وقت اسلام میں موجود رہتے ہیں۔وہ کبھی مجدد کہلاتے ہیں کبھی امتی نبی کبھی ولی اللہ مگر رہتے ہمیشہ ہیں اور سب کے سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی غلامی کا اقرار کرتے ہیں۔پس اس سے زیادہ ثبوت اور ختم نبوت کا کیا ممکن ہے۔خلاصہ یہ کہ ختم نبوت سب سے بڑا نشان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا ہے جو میرے بیان کردہ معنوں کے رو سے ہمیشہ ہی ثابت ہے او رہر وقت دشمنوںپر اس کی صداقت ثابت کی جاسکتی ہے اور ہماری طرف سے کی جارہی ہے۔آنحضرت صلعم پر خدا تعالیٰ کی کامل تجلی دوسری آیت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدا تعالیٰ نے ظاہر کی وہ یہ ہے کہ آپ کو دَنَا فَتَدَلّٰى کا بلند مقام ملا۔گویامحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل تجلی ظاہر کی۔پھر آپؐکے متعلق ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( اٰل عـمران: ۳۲) اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اگر تمہارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت موجزن ہے اور تم چاہتے ہو کہ وہ تم سے پیار کرے تو تم میری اطاعت کرو خدا تعالیٰ تم سے محبت کر نے لگ جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر آپ کی شان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا(النسآء: ۷۰) یعنی جو شخص بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ اس گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات نازل کئے یعنی نبیوں میں یا صدیقوں میں، شہیدوں میں یا صلحا ء میں اور یہ لوگ بہترین رفیق ہیں۔دیکھو یہ کتنا بڑا انعام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کہ آپ کی متابعت اور پیروی میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور صدیقیت اور شہادت اور صالحیت کا مقام رکھ دیا۔اور در حقیقت بڑا آدمی وہی ہو تا ہے جس کے ماتحت بڑے بڑے آدمی ہوں۔ایک پرائمری کے مدرس اور ایم اے کے پروفیسر میں کیا فرق ہوتا ہے یہی کہ پرائمری کے مدرس سے پڑھنے والے چھوٹے چھوٹے طالب علم ہوتے ہیں اور ایم اے کے پروفیسر سے پڑھنے والے بڑے بڑے طالب علم ہوتے ہیں۔لفظ استاد میں تو دونوں شریک ہوتے ہیں لیکن ان میں سے ایک کو بڑا کہا