تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 62
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کو سمجھایا اور بتایا کہ یہ عقیدہ قرآن کریم کے خلاف ہے۔وہ نہ مانا اور اپنی بات پر اصرار کرتا چلا گیا۔آخر تنگ آکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا کہ اچھاحضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر پرندے پید اکیا کرتے تھے تو ان کے پیدا کئے ہوئے پرندے کہاں ہیں اس شخص نے جواب دیا کہ وچے ہی رل مل گئے نے (یعنی خدا تعالیٰ کے پرندوں سے مل جل گئے ہیں)(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۰۶) ویسی ہی بات یہاں ہو جاتی ہے۔اگر ہمیں پتہ نہ ہو کہ خدا تعالیٰ کا دخل انسانی کاموں میں کس حد تک ہے تو انسانی اعمال کی حقیقت مشتبہ ہو جاتی ہے۔اس لئے لازماً مذہب کو بتانا چاہیے کہ وہ کون سے کام ہیں جن میں خدا تعالیٰ دخل دیتا ہے۔اور وہ کون سے کام ہیں جن میں خدا تعالیٰ دخل نہیں دیتا۔مگر یہ بات صرف قرآن کریم ہی بتاتا ہے باقی سب کتب اس بارہ میں خاموش ہیں کہ قضاء و قدر کے معنے کیا ہیں، قضاء و قدر اور تدبیر کا کیا تعلق ہے، قضاء و قدر کی غرض کیا ہے، قضاء و قدر سے کیوں جبر نہیں نکلتا اور کس طرح اس کےباوجود انسان آزاد ہے اور جہاں آزادنہیں وہاں اسے سزا نہیں ملتی۔قضاء و قدر کا دائرہ کیا ہے۔ان تمام امور کے بارہ میں صرف قرآن کریم میں روشنی ڈالی گئی ہے باقی سب کتب خاموش ہیں۔اگر کسی غیر مذہب والے کا دعویٰ ہو کہ قضاء و قدر کے متعلق صحیح تعلیم اس کی الہامی کتاب میں موجود ہے تو ہم اسے چیلنج کرتے ہیں کہ وہ قرآ ن کریم کے مقابلہ میں اپنی کتاب سے اس مسئلہ کو واضح کرے۔مگر ہمیں یقین ہے کہ کوئی دوسرا مذہب اپنی کتاب سے یہ مسئلہ نہیں نکال سکتا۔یہ صرف قرآن کریم کی ہی خوبی ہے جو اسے تمام الہامی کتب پر فضیلت دیتی ہے۔بَعْث بَعْدَ الْمَوْت (۵) بعث بعد الموت کو لو تو اس بارہ میں بھی باقی کتابیں یا تو خاموش ہیں جیسے بائبل اور وید اور یا پھر ان میں صرف بعض تفصیلات کا ذکر ہے اس کے ثبوت نہیں دیئے، اس کی حکمتیں بیان نہیں کیں، نہ اخروی زندگی کے مقاصد بیان کئے ہیں نہ سزا و جزا کی غرض اور اس کی حکمتیں بیان کی ہیں۔ژند اوستا نے ایک حد تک اس مسئلہ کو بیان کیا ہے۔لیکن بائبل اور وید دونوں اخروی زندگی کے متعلق بالکل خاموش ہیں۔ژند اوستا کو پڑھیں تو اس میں دوزخ اور جنت کا ذکر پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے قرآن کریم اور ژند اوستا میں ایک گہرا رشتہ ہے۔لیکن دنیوی زندگی کو لیں تو اس کا قرآن کریم کے ساتھ کوئی جوڑ ہی معلوم نہیں ہوتا۔دنیوی زندگی کے متعلق بائبل قرآن کریم سے مشابہت رکھتی ہے اور اخروی زندگی کے متعلق ژند اوستا قرآن کریم سے مشابہت رکھتی ہے بہر حال دوسری کتابیں یہ نہیں بتاتیں کہ اخروی زندگی اور دنیوی زندگی میں فرق کیا ہے۔جزا و سزا کی کیا غرض اور حکمت ہے یا جزا و سزا