تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 61

گا اور اگر لوگوں کو وہ خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچائے گا تو وہ نبی ہوجائے گا۔اور اگر وہ خدا تعالیٰ کا پیغام نہیں سناتا تو پھر نبی کیسا وہ تو جھوٹا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کہتا ہے کہ میں نبی ہوں لیکن ساتھ ہی وہ یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول نہیں ہوں تو وہ جھوٹا ہے اور اگر سچا ہے تو وہ ضرور اللہ تعالیٰ کارسول ہے۔غرض رسول اور نبی الگ الگ وجود نہیں ہو تے بلکہ دو حیثیتوں کی وجہ سے ان کے یہ دو الگ الگ نام ہو تے ہیں۔بہرحال قرآن کریم میں تمام تفصیلات اس طرح بیان کی گئی ہیں کہ انسان کی روح مطمئن ہو جاتی ہے۔اس نے نہ صرف نبی کی تعریف بیان کی ہے بلکہ تفصیلی طور پر ان کی آمد کی غرض، ان کے فرائض، ان کی صداقت کی علامات، ان کے اور خدا تعالیٰ کے تعلقات کی تفصیل، ان کے اور بنی نوع انسان کے تعلقات کی تفصیل، ان کی خصوصیات سب بیان کی ہیں اور سیر حاصل طور پر بیان کی ہیں۔(۴) قضاء و قدر کے متعلق بھی قرآن کریم کے سوا باقی سب کتابیں خاموش ہیں۔اگر کسی غیر مذہب والے سے پوچھا جائے کہ قضاء و قدر کے کیا معنے ہیں تو وہ اس کے متعلق کوئی بھی روشنی اپنی الہامی کتاب سےپیش نہیں کر سکتا۔حالانکہ یہ ایک نہایت اہم مسئلہ ہے اور اس کا روحانیت کے ساتھ گہرا تعلق ہے زیادہ سے زیادہ لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارا کچھ اختیار نہیں جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور یہی قضاء و قدر کے معنے ہیں حالانکہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہم نے اپنے کاموں میں کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ یہ کام ہم سے کون کروا رہا ہے اور جب ہم محسوس ہی نہیں کرتے تو ہم کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے کاموں میں خدا تعالیٰ کا دخل ہے اور اگر اس کا دخل ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا ثبوت کیا ہے اور پھر یہ کہ کیا سب کاموں میں خدا تعالیٰ کا دخل ہے یا بعض کاموں میں؟اگر کسی کام میں خدا تعالیٰ کا دخل ہے اور کسی کا م میں نہیں تو ہمیں کس طرح پتہ لگ سکتا ہے کہ فلاں کام میں خدا تعالیٰ کا دخل ہے اور فلاں میں نہیں؟ اگر ہم کہیں گے کہ سب کاموں میں خدا تعالیٰ کا دخل ہے تو چوری ہم کر رہے ہوں گے اور اطمینان سے کہہ دیں گے کہ خدا تعالیٰ ہم سے چوری کروا رہا ہے۔فریب ہم کر رہے ہوں گے اور کہہ دیں گے کہ خدا تعالیٰ ہم سے فریب کروا رہا ہے اور اگر ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کسی کام میں بھی دخل نہیں تو ہماری عبادتیں اور دعائیں لغو ہوجاتی ہیں۔اب صرف تیسری صورت ہی رہ جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ بعض کاموں میں دخل دیتا ہے اور بعض کاموں میں نہیں۔لیکن اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر مذہب کو بتانا چاہیے کہ وہ کون سے کاموں میں دخل دیتا ہے اور کون سے کاموں میںدخل نہیں دیتا۔ورنہ معاملہ مشتبہ ہوجائے گا او ریہ پتہ نہیں لگ سکےگا کہ کس کام میں بندہ آزاد ہے اور کس کام میں وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کے ماتحت ہے۔