تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 57
یقیناً اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور خبر رکھنے والا ہے۔سورۃ لقمان ع ۱ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ۔(لقمان:۳) یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔سورۂ آل عمرا ن ع ۶ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذٰلِکَ نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّکْرِ الْحَکِیْمِ۔( اٰلِ عـمران:۵۹) ہم تجھے اپنی آیات اور حکمت والا ذکر پڑھ کر سناتے ہیں۔پھر سورۂ یونس ع۱ میں فرماتا ہے تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ۔(یونس:۲) یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔اسی طرح سورۃ یٰسٓ ع۱ میں آتا ہے۔وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ۔(یٰسٓ : ۳) قسم ہے قرآن کی جو حکمت والا ہے۔آنحضرت صلعم کی بعثت کی چار اغراض اور آنحضرت کے لئے اس میں کوثر کا ہونا اوپر کی آیتوں سے واضح ہے کہ قرآن کریم میں بار بار یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ آپؐکی بعثت کی چار غرضیں تھیں۔(۱) تلاوتِ آیات (۲) تعلیمِ کتاب (۳) تعلیمِ حکمت اور (۴) تزکیۂ قوم۔اور پھر متواتر قرآنی آیات نے بتایا ہے کہ یہ کام آپ نے پورا کر دیا جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں تمام نبیوں کا اپنے اپنے رنگ میں یہی کام ہو تا ہے۔اس جگہ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا آپ کو ان چاروں صفات میں کوثر بھی عطا ہوا ہے یا نہیں۔اٰيٰتِكَ میں خدا تعالیٰ کی طرف راہنمائی کرنے والے عقلی امور اور معجزات کی طرف اشارہ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ میں اٰيٰتِكَ سے دو طرف اشارہ ہو سکتا ہے (۱)ان عقلی امور کی طرف جو خدا تعالیٰ کی طرف یا اس کی صفات کی طرف راہنمائی کر نے والے ہیں (۲) ان معجزات کی طرف جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے پاک بندوں کی شان نمایاںکر نے کے لئے ظاہر ہو تے ہیں۔میرے نزدیک یہ دونوںچیزیںاس آیت میںشامل ہیں یعنی وہ دلائل عقلیہ جو خدا تعالیٰ کی معرفت عطا کرتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں اور وہ معجزات و نشانات جو خدا تعالیٰ کی