تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 2
چھوڑ دو یہ تو ایک ایسا شخص ہے جس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی پیچھےرہنے والا ہے جو اس کی تعلیم کو اس کی وفات کے بعد قائم رکھ سکے۔اگریہ وفات پا گیا تو اس کا ذکر خود بخود منقطع ہو جائے گا اور تم اس کے وعظوں اور نصیحتوں سے محفوظ ہو جاؤ گے۔مفسرین کے نزدیک سورۂ کوثر کا شانِ نزول گویا عاص بن وائل کے نزدیک آپ کی تعلیم ایک جتھہ بندی والی بات تھی اور نرینہ اولاد ہی اس کو قائم رکھنے میں ممدّ ہو سکتی تھی۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد نہیں تھی صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں اور لڑکیوں کی عرب میں کوئی وقعت نہیں سمجھی جاتی تھی۔عرب لوگ سمجھتے تھے کہ لڑکیاں تو دوسرےخاندانوں میں چلی جائیں گی جہاں وہ انہی کی مرضی کےمطابق چلیں گی۔باپ کی یاد کو قائم رکھنے والے تو اس کےلڑکے ہی ہو تے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چونکہ نرینہ اولاد نہیں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں اس لئے جب آپ وفات پا جائیں گے تو آپ کی تعلیم بھی ختم ہو جائے گی خواہ مخواہ آپ کی مخالفت کر نے میں آپ کو اہمیت حاصل ہو تی جا رہی ہے۔انہیں چھوڑ دو۔وفات کے بعد آپ کا قائم کردہ سلسلہ خودبخود منقطع ہو جائے گا پس مخالفت کر کے آپ کی تعلیم پھیلانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ مخالفت کو دیکھ کر لوگوں کی توجہ خواہ مخواہ ان کی طرف پھر جاتی ہے۔اسی وجہ سے عاص بن وائل یہ کہا کرتا تھا کہ آپ ابتر ہیں، آپ کی نرینہ اولاد نہیں جو آپ کی وفات کے بعد آپ کے سلسلے کو قائم رکھ سکے۔مفسرین کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے اس کے اور اس کے ہم خیال لوگوں کی تردید میں ہی یہ سورۃ اتاری۔تاریخوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ کو ابتر کہنے والا صرف عاص بن وائل ہی نہیں تھا بلکہ اور لوگ بھی تھےجو آپ کو ابتر کہاکرتے تھے۔ابو جہل کے متعلق بھی آتا ہے کہ وہ بھی آپ کو ابتر کہا کرتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان سب کی نرینہ اولاد تھی، لڑکے تھے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی لڑکا نہیں تھا اور جتھہ بندی کے لحاظ سے عرب میں لڑکے کی قدر ہو تی تھی ان لوگوں کا خیال تھا کہ جب آپ وفات پا جائیں گے تو ساتھ ہی آپ کا قائم کردہ سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔وہ آپ کے سلسلہ کو عارضی شورش سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ کی مخالفت کی کوئی ضرورت نہیں مخالفت سے خواہ مخواہ اس سلسلہ کو ترقی مل رہی ہے۔سورۂ کوثر کو مدنی کہنے والوں کی تردید اس سورۃ میں چونکہ ایسے لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہا کرتے تھے۔اس لئے بعض لوگوں نے غلطی سے اسے مدنی قرار دے دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے اس وقت کفار نے یہ کہا تھا کہ آپ ابتر ہو گئے ہیں