تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 49

ابو سفیان تو آپ کی زندگی میں ہی آپ کا شکا ر ہو گیا تھا۔پھر اسی کا بیٹا معاویہؓ تھا جو اسلام کا ایک پہلوان ہوا۔بے شک ان سے بعض غلطیاں بھی ہوئیں مگر انہوں نے اسلام کی نہایت شاندار خدمت سر انجام د ی ہے۔غر ض حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے تو صرف پلوٹھے مرے مگر یہاں دشمن کی ساری اولادیں مر گئیں۔وہ آپ پر ایمان لے آئیں اور اپنے باپوں سے کٹ کر روحانی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل میں شا مل ہو گئیں۔سولھویں فضیلت (۱۶) پھر قحط کا نشان حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں پر ایک سال کا قحط آیا۔ٹڈی آئی اور فصلوں کو کھا گئی۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم پر سات سال کا قحط پڑا۔آخر انہوں نےآپؐ سے دعائیں کروائیں تب اس عذاب سے انہیں نجات حاصل ہوئی(بخاری کتاب التفسیر سورۃ الدخان باب قولہ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا۔۔۔۔۔)۔سترھویں فضیلت (۱۷) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ پر اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی مگر جیسا کہ قرآن کریم اور تورات دونوں سے معلوم ہو تا ہے آپ اسے برداشت نہ کر سکے اور بے ہوش ہو کر گر گئے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دَنَا فَتَدَلّٰى۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (النجم:۹،۱۰ ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی تڑپ پیدا ہوئی اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی طرف اس کی ملاقات کے لئے صعود شروع کیا ادھر خدا تعالیٰ کے دل میں آپ کی وہ محبت موجزن تھی کہ وہ خود نیچے اتر آیا تاکہ ملاقات میں دیر نہ ہو۔پھر وہ دونوں مل کر ویسے ہی نہیں آگئے بلکہ فرمایا فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى۔عرب میں یہ رواج تھا کہ جب دوآدمیوں میں پیار او رمحبت ہو جاتی تھی تو وہ ایک ہی کمان سے تیر چلاتے تھے اور اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ جدھر اس کا تیر جائےگا ادھر ہی میرا تیر جائے گا اور جدھر میرا تیر جائے گا ادھر ہی اس کا تیر جائے گا(معالم التنزیل زیر آیت فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى )۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے معاہدہ کیاکہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آج سے جدھر تمہارا تیر چلے گا ادھر ہی میرا تیر چلےگا۔اور جدھر میرا تیر چلے گا ادھر ہی تیرا تیر چلے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ادھر ہی تیر چلایا جدھر خدا تعالیٰ نے تیر چلایا۔خواہ آپ کا وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اور خدا تعالیٰ کو بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےا تنا پیار تھا کہ اس نے بھی ادھر ہی تیر چلایا جدھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر چلایا مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى(الانفال:۱۸) میںبھی اسی طرف اشارہ ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جب تو نے دشمنوں کی طرف کنکروں کی مٹھی پھینکی تو وہ کنکر تو نے نہیں پھینکے ہم نے پھینکے تھے کیونکہ ہمارا تم سے یہ وعدہ تھا کہ جدھر تمہارا تیر