تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 48

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیا گیا۔آپ کے شدید ترین دشمن آپ پر ایمان لائے اور پھر انہوں نے اتنی شاندار قربانیاں کیں کہ دنیا میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں کے پلوٹھوں کو مارا اور اس طرح مارا کہ انہیں آپ سے کوئی محبت نہیں تھی۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے بیٹوں کو اس نے ایمان اور محبت کے ساتھ مارا اور ایسا مارا کہ مرتے ہوئے بھی اگر ان کو کچھ حسرت تھی تو یہی کہ وہ چارپائی پر کیوں مر رہے ہیں میدان جنگ میں لڑتے ہوئے انہیں شہادت کیوں نصیب نہ ہوئی۔عمر و بن عاصی جوبعد میں عمرو بن عاص کہلائے جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کے بیٹے نے جو آپ سے پہلے مسلما ن ہو گئے تھے اور بڑے عظیم الشان صحابیؓ تھے دیکھا کہ وہ تڑپ رہے ہیں۔بیٹے نے کہا باپ آپ کیوں اتنا تڑپتے ہیں خدا تعالیٰ نے آپ کو کتنا بڑا رتبہ دیا ہے کہ آپ کو ایمان نصیب ہوا۔عمرو بن عاص نے آہ بھری اور کہا میرے بیٹے ایمان سے پہلے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا شدید دشمن تھا کہ آپ کی شکل دیکھنے کو بھی میں برا سمجھتا تھا۔اگر آپ میرے پاس سے گذرتے تو میں اپنی آنکھیں نیچی کر لیتا تھا، تا نعوذ باللہ آپ کی منحوس شکل نظر نہ آئے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے ایمان بخشا مگر اس وقت مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی محبت ہو گئی کہ شدتِ محبت کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل کو نہیں دیکھا میں ہمیشہ اپنی نظریں نیچی رکھتا تھا گویاکفر کی حالت میں بُغض کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل کو نہیں دیکھا اور ایمان کی حالت میں شدت محبت کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل کو نہیں دیکھا۔چنانچہ آج اگر کوئی شخص مجھ سے آپ کا حلیہ پو چھے تو میں نہیں بتا سکتا میرے بیٹے! بے شک خدا تعالیٰ نے مجھے بہت سی نیکیوں کی تو فیق دی ہے لیکن آپ کی وفات کے بعد جھگڑے ہو تے رہے اور بعض غلطیاں بھی ہم سے ہوئیں نہ معلوم اب میں کس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شکل دکھاؤں گا(مسلم کتاب الفتن باب کون الاسلام یـھدم ما قبلہ)۔دیکھو یہ کتنے بڑے دشمن تھے جو دن اور رات آپ کی دشمنی کرتے تھےمگر بعد میں انہیں ایسا ایمان نصیب ہوا کہ انہوں نے اپنے آپ کو محبت کی چھری سے ذبح کر لیا۔پھر ابوجہل کو دیکھو۔وہ کتنا بڑا دشمن تھا اس کا بیٹا عکرمہ ؓ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور پھر اس نے جو قربانی صحابہؓ کو بچا نے کے لئے کی وہ بھی ایسی شاندار ہے جس کی نظیر دنیامیں نہیں ملتی۔آپ صحابہؓ کی جانوں کو بچانے کے لئے ایک ایسے لشکرمیں گھس گئے جس کی تین لاکھ سے دس لاکھ تک تعداد بتائی جاتی ہے قلب لشکر میں جاتے ہی آپ نے کمانڈر انچیف کو زخمی کیا اور حملہ کر کے قلب لشکر میں انتشار پیدا کر دیا اور پھر وہیں لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔