تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 453
اسی طرح مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ کی آیت مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ سے بھی متعلق ہو سکتی ہے اور اس صورت میں یہ معنے ہوں گے کہ میں وسوسہ اندازی کرنے والوں کے شر سے پناہ چاہتاہوں جو وسوسہ ڈال کرخود پیچھے ہٹ جاتے ہیں یا پوشیدہ رہتے ہیں اور ایسی ہستیاں چھوٹے لوگوں میں سے بھی ہیں اور بڑوں میں سے بھی۔ظاہر میں بھی نظر آتی ہیں اور پوشیدہ بھی ہیں۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا جاچکا ہے کہ جنّ کا لفظ اِنس کے مقابلہ پر بولا جاتا ہے اور جِنّ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو عام طور پر نظر نہیں آتے یعنی اپنے گھروں میں بند رہتے ہیں اوران کی ڈیوڑھیوں پرپہرے لگے رہتے ہیں۔اور وہ عوام سے نہیں ملتے اور انس ان کو کہتے ہیں جن سے انسان آسانی سے مل سکتا ہے گویا جِنّ کے معنے ہوں گے بڑے لوگ اور انس کے معنے ہوں گے عوام الناس یا عوام الناس سے میل جول رکھنے والے لوگ۔اس حکمت کے ماتحت عمررضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں حکم دے دیا تھا کہ کوئی گورنر اپنی ڈیوڑھی پر دربان مقرر نہ کرے۔تاکہ لوگ آزادی سے اس تک پہنچ سکیں(تاریـخ الطبری سنۃ ۲۳ھـ ذکر بعض سیرہٖ) تااس کی انسانیت قائم رہے اور وہ افسر بن کر جنّ نہ بن جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں جب مغربی اقوام اسلام پر حملہ آور ہوں گی اور مسلمانوں کی اقتصادیات کو تباہ کریں گی اور ان کے ملکوں پرقبضہ کرلیںگی تو یہ سب کچھ دھوکہ اور مکاری سے ہوگا۔اور ظاہر میں تو یہ کہیں گے کہ ہم تہذیب سکھانے آئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان ملکوں میں علوم کی ترویج ہو۔لیکن ان کا منشاء لوگوں کے دلوں میں وساوس پیدا کرنا ہوگا تا کہ لوگ خدا اوراس کے رسول سے بدظن ہوجائیں۔اسی طرح حکومت کریں گے اور ظاہر یہ کریں گے کہ ہم اہلِ ملک کے فائدہ کے لئے سب کچھ کررہے ہیں۔لیکن ان کا ارادہ یہ ہوگا کہ کسی طرح یہ لوگ اپنے مذہب سے متنفر ہوکر ان کی تہذیب اور ان کے دین کو اختیار کرلیں۔اور وہ کسی ایک کو نہیں بلکہ ہر ایک کو متأثر کرنے کی کوشش کریں گے۔خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔اور ان کا حربہ اتنا کامیاب ہوگا کہ آخر مسلمان اس سے متاثر ہوں گے اور ان کا تمدن ختم ہوجائے گا۔کئی شرارت کرنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ شرارت کرنے کے بعد سامنے کھڑے رہتے ہیں مگر کئی شرارت کرکے ایسے مخفی ہوجاتے ہیں کہ ان کا پتہ بھی نہیں چلتا اور بعض پوشیدہ کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔مغربی اقوام کا یہ خاصہ ہے کہ وہ سیاسیات اور دوسرے امور میں ہمیشہ ایسا طرز عمل اختیا رکرتی ہیں کہ جس کا دوسروں کو علم بھی نہیں ہوتا۔اور دوسرا ملک تباہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح مختلف کتابیں لکھتے ہیں اور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم علم پھیلا رہے ہیں لیکن یا