تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 452

آتے رہے ہیں جن میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی ان کو بھی وسواس کہتے ہیں۔(اقرب) اَلْـخَنَّاسُ۔اَلْـخَنَّاسُ خَنَسَ سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور خَنَسَ عَنْہُ کے معنے ہیں رَجَعَ وَتَنَحّٰی۔اس کے پاس سے لوٹ آیا اور الگ ہو گیا۔نیز خَنَسَ کے معنے ہیں تَاَخَّرَ پیچھے ہٹ گیا۔اِنْقَبَضَ کسی بات سے دل میں انقباض محسوس کیا اور اگر یہ لفظ کجھور کے لئے استعمال کریں او رکہیں خَنَسَ النَّخْلُ تو معنے ہوں گے تَاَخَّرَتْ عَنْ قُبُوْلِ التَّلْقِیْحِ فَلَمْ یُؤَثِّرْ فِیْـھَا وَلَمْ تَـحْمِلْ فِیْ تِلْکَ السَّنَۃِ۔کھجور نے نر کے مادے کو قبول نہ کیا اور اس وجہ سے پھل دار نہ ہوئی۔اور خَنَسَ الشَّیْءُ عَنْکَ کے معنے ہیں سَتَرَہٗ۔اس نے کچھ چھپا کر رکھا اور جب خَنَسَ بَیْنَ اَصْـحَابِہٖ کہیں تو معنے ہوں گے اِسْتَخْفیٰ وہ اپنے دوستوں کے درمیان چھپ گیا۔خَنَسَ بِفُلَانٍ کے معنے ہیں غَابَ بِہٖ۔اس کو لے کر غائب ہوگیا۔خَنَسَ الْقَوْلَ کے معنے ہیں اَسَاءَہٗ بات کو برا سمجھا اور خَنَسَ اِبْـھَامَہٗ کے معنے ہوں گے قَبَضَھَا اپنے انگوٹھے کو دہرا کیا(اقرب)۔پس خنّاس کے معنے ہوں گے۔(۱) بہت علیحدہ رہنے والا۔(۲) بہت پیچھے ہٹنے والا۔(۳) اثرکو بالکل قبول نہ کرنے والا۔(۴) بات کو بہت چھپانے والا۔(۵) اپنے ساتھیوں میں چھپ جانے والا۔اَلْـجِنَّۃُ۔اَلْـجِنَّۃُ : جَـمَاعَۃُ الْـجِنِّ یعنی جنوں کے گروہ اور ان کی جماعت کو عربی میں جِنَّۃ کہتے ہیں۔اَلْـجِنُّ: اَلْاِنْسُ کے مقابلے پر بولاجاتا ہے۔اَلْـجِنُّ کا لفظ جَنَّ سے ہے اور مادہ کے اعتبار سے اس کے اندر پوشیدہ رہنے کے معنے پائے جاتے ہیں۔چنانچہ جنین اس بچے کو کہتے ہیں جو رحم میں مخفی ہوتا ہے۔اور جنان دل کو کہتے ہیں جو سینے میں مخفی ہوتا ہے۔پس جِنّ کے معنے ہیں مخفی مخلوق۔ہر وہ ہستی جو نظروں سے مخفی رہے اس کو عربی میں جِنّ کہیں گے (اقرب)۔اسی لحاظ سے جِنّ کا لفظ امراء پر بولا جاتا ہے کہ وہ اپنے مکانوں میں بند رہتے ہیں اور ان تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔تفسیر۔مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ۔الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِالنَّاسِ۔مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ کے معنے ہیں۔میں اس وسوسہ اندازی کرنے والے کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتاہوں جو وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جاتا ہے یا پوشیدہ رہ کر چھوٹے اور بڑے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرتا ہے۔مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ کی آیت یا تو یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِالنَّاسِ کے ساتھ متعلق ہے۔اور اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ وسوسہ اندازی کرنے والا لوگوں کے دلوں میں وساوس پیدا کرتا ہے اور وہ نہ چھوٹوں کو چھوڑتا ہے اور نہ بڑوں کو۔بلکہ ہر ایک کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔