تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 451
تیسری حالت یہ ہوتی ہے کہ خود غرضی داخل ہوجاتی ہے اور نیت خالص نہیں رہتی۔اس کے لئے فرمایا کہو اِلٰہِ النَّاسِ میں اس خدا کی جو سب کا معبود ہے پناہ مانگتاہوں کہ میرے اپنے اندر کوئی فتور نہ پیدا ہواو ر اگر کبھی پیدا بھی ہو جائے تو یہ اس کی شان کے خلاف ہے کہ مجھے وہ اپنی الوہیت سے نکل جانے دے۔اس لئے اس صفت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اے خدا میرا تجھ سے تعلق قائم رہے اور کبھی منقطع نہ ہو۔پس قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔مَلِکِ النَّاسِ۔اِلٰہِ النَّاسِ میں ان تینوں حالتوں کے متعلق پناہ مانگنے کی بھی دعا سکھائی گئی ہے۔مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ۰۰۵ (میں اس کی پناہ طلب کرتاہوں )ہر وسوسہ ڈالنے والے کی شرارت سے جو (ہر قسم کے وسوسے ڈال کر آپ ) پیچھے ہٹ جاتا ہے۔الَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ۰۰۶ (اور ) جو انسانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کردیتا ہے۔مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِؒ۰۰۷ خواہ وہ (فتنہ پرداز ) مخفی رہنے والی ہستیوں میں سے ہو۔خواہ عام انسانوں میں سے ہو۔حلّ لُغات۔اَلْوَسْوَاسُ۔اَلْوَسْوَاسُ اِسْـمٌ مِّنْ وَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطٰنُ۔وَسْوَاس وَسْوَسَ فعل کا اسم ہے اور وَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطٰنُ کے معنے ہوتے ہیں حَدَّ ثَہٗ بِـمَالَا نَفْعَ فِیْہِ وَلَا خَیْرَ کہ اس کو وہ بات بتلائی جس میں کوئی نفع اور بھلائی نہیں۔گویا وَسْوَاس کے معنے ہوں گے وہ بات جس میں کوئی نفع اور بھلائی نہ ہو۔نیز وَسْوَاس کے معنے ہیں اَلشَّیْطَانُ۔شیطان ھَمْسُ الصَّائِدِ وَالْکِلَابِ شکاری جب شکار کے لئے نکلتا ہے تو وہ اونچی آواز نہیں نکالتا۔بلکہ ایسی آواز نکالتا ہے جو بالکل نیچی ہو۔اس آواز کو اور کتوں کی آواز کو وسواس کہتے ہیں۔اَلْوَسْوَاسُ اَیْضاً مَرَضٌ یَـحْدُثُ مِنْ غَلَبَۃِ السَّوْدآءِ وَیَـخْتَلِطُ مَعَہٗ الذِّھْنُ۔وسواس اس مرض کو بھی کہتے ہیں جو سوداوی مادہ کے بڑھ جانے سے ہوجاتی ہے او رجس سے ذہن میں پراگندہ خیالات آنے شروع ہوجاتے ہیں۔وَیُقَالُ لِمَا یَـخْطُرُ بِالْقَلْبِ مِنْ شَـرٍّ وَّ لِمَا لَا خَیْرَ فِیْہِ۔وَسْوَاسٌ اور جو دل میں برے خیالات