تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 450
(۳) سورۃ الفلق کی تفسیر میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ اس سورۃ میں دوسرے مضامین کے علاوہ پیدائش، موت اور زندگی کے زمانہ کی خرابیوں سے پناہ کی دعا سکھائی گئی ہے۔اس کے مقابل پر سورۃ الناس میں خدا تعالیٰ کی تین صفات رب۔ملک اور اِلٰہ کا ذکر کیا گیا ہے۔جو انہی زمانوں سے تعلق رکھتی ہیں جن کا ذکر سورۃ الفلق میں کیا گیا ہے۔پیدائش کی صفت کا تعلق رَبّ سے ہے۔موت کی صفت کا تعلق مَلِک سے ہے۔اور زندگی کی صفت کا تعلق اِلٰہ سے ہے۔چنانچہ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کے مقابلہ میں اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ رکھا اور مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کے مقابلہ میں مَلِکِ النَّاسِ رکھااور مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِیْ الْعُقَدِ۔وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ کے مقابلہ میں اِلٰہِ النَّاسِ رکھا ہے۔یعنی تینوں حالتوں کے ساتھ تین صفات جو تعلق رکھتی ہیں ان کا ذکر سورۃ الناس میں کیا گیا ہے۔پیدائش کے لحاظ سے انسان کا تعلق خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت سے ہوتا ہے اور یہ حالت ہر وقت جاری رہتی ہے کیونکہ انسان کی پیدائش بھی ہروقت جاری رہتی ہے۔انسان کھانا کھاتا ہے تو اس لئے کہ اس سے خون بنے اور اس کی زندگی کا ذریعہ ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش ہر وقت جاری رہتی ہے گو نطفہ کے لحاظ سے پیدائش ہوچکی مگر حقیقتاً ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔حتی کہ ڈاکٹروں کاخیال ہے کہ سات سال تک انسان کا جسم بالکل بدل جاتا ہے تو پیدائش ہر وقت جاری رہتی ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ سے ربوبیت کا تعلق بھی ہر وقت جاری رہتا ہے اور جس طرح زمانہ خلق انسان کے لئے تھا اسی طرح ربوبیت کی کیفیت بھی اس میں پائی جاتی ہے اس لئے فرمایا قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ کہہ دے میں اس رب کی پناہ مانگتاہوں جس کی تمام انسانوں میں ربوبیت جاری ہے اور ہردم ایسے تغیرات انسان کے جسم میں ہورہے ہیں جو یا تو اسے بدی کی طرف لے جاتے ہیں یا نیکی کی طرف۔میں اس تغیر کرنے والی صفت سے پناہ مانگتاہوں کہ وہ مجھے برائی کی طرف نہ لے جائے۔بلکہ نیکی کی طرف لے جائے۔پھر میں مَلِکِ النَّاسِ کی پناہ مانگتاہوں۔موت بھی انسان پر ہر وقت جاری رہتی ہے۔پیشاب، پاخانہ، پسینہ، ناخن، بال کیاہیں۔جسم کے وہ اجزاء جو مردہ ہوجاتے ہیں یہ عارضی اور جزوی موت ہے جو انسان پر آتی رہتی ہے۔پس موت بھی جاری رہتی ہے اس لئے مَلِکِ النَّاسِ کی پناہ مانگنے کے لئے کہا گیا کہ جزا سزا کی جو صفت جاری ہے اس کے متعلق پناہ مانگتاہوں۔ایسا نہ ہو کہ ناکامی کا زمانہ آجائے بلکہ انعام ملتے رہیں اور خدا کے فضل ہوتے رہیں میں یہ چاہتاہوں کہ ان میں روک نہ واقع ہو۔