تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 439
الغرض اس سورۃ میں نہایت لطیف رنگ میں مسلمانوں کے غلبہ کی بشارت دی اور پھر مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ تنزّل او راس کے اسباب کو مدّ ِنظر رکھیں اور دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے۔اس مضمون کو ادا کرتے ہوئے مسلمانوں پر جس جس رنگ میں تباہی آنی تھی اس کا بھی ذکر کر دیا۔تاکہ مسلمان وقت پر متنبہ ہوسکیں۔(۳) پھر سورۃ الفلق میں یہ مضمون بھی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کامل توحید پر ایمان لانے والے کو صرف خدا تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیے اس کی توحید کا ڈنکا ہر جگہ بجانا چاہیے اور اگر اس وجہ سے مخالفت کا طوفان اٹھے یا ایسے لوگ اٹھ کھڑے ہوں جو عزیزوں، دوستوں، رشتہ داروں اور بیوی بچوں کو اکسا کر خلاف کردیں۔تب بھی اسے کسی کی پروانہیں کرنی چاہیے اس مضمون کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ کہ جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے کہ وہ کسی کی پرواہ نہ کرے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ حقیقۃً خدا تعالیٰ کا ہوگیا۔اوروہ اپنے دعویٔ توکل میں سچا تھا۔اور جب وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا تو اس کی اس ترقی کو دیکھ کر اس کے حاسد بھی پیداہوجائیں گے جو طرح طرح کے طعنے دیں گے۔کوئی کہے گا کہ اتفاقاً ترقی کر گیا۔کوئی کچھ کہے گا اور کوئی کچھ۔ایسے وقت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت دی کہ اعلان کردو کہ مجھے اس وقت ایسے حاسدوں کی بھی کوئی پروا نہیں۔میں اس وقت بھی اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور اسی کی پناہ میں آتاہوں کیونکہ وہ نہایت مہربان ہے اور اپنی ذات پر توکل کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔پھر سورۃ کی ابتدائی آیات میں رَبِّ الْفَلَقِ کے الفاظ استعمال کر کے کمال کے حصول کے لئے دعا سکھائی گئی تھی اور پھریہ بتایاگیا تھا کہ یہ دعا کرو کہ جب کمال حاصل ہوجائے تو زوال کا وقت نہ آئے۔اس کے بعد مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ۔وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ کہہ کر بتایا ہے کہ انسان کی دوہی حالتیں ہوتی ہیں۔یا ترقی یا تنزّل۔تنزّل کے وقت یہ دیکھا گیا ہے کہ جب انسان کمزور ہوجاتا ہے تو کئی لوگ ایسے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اسے اور دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ترقی ہو تو حسد کرنے والے کھڑے ہو جاتے ہیں۔غرض انسان کمزوری کی حالت میں ہو تو اسے اور زیادہ کچلنے والے آموجود ہوتے ہیں اور اگر بڑابن جائے تو حسد کرنے لگ جاتے ہیں۔پس کوئی حالت ایسی نہیں جس میں انسان لوگوں کے شر سے محفوظ رہ سکے۔اسے کمزوری میں بھی خطرہ ہے اور ترقی میں بھی خطرہ ہے۔کمزوری کے وقت میں اسے ان لوگوں سے خطرہ ہے جنہیں اس بات میں مزہ آتا ہے کہ وہ گرے کو گرائیں اور مرے کو ماریں اور ترقی کے وقت اسے ان لوگوں سے خطرہ ہے جو حسد کرنے اور اسے نقصان پہنچانے