تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 440
کے درپے رہتے ہیں غرض کسی حالت میں بھی انسان مامون نہیں۔اوروہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں ایک وجود کے مبعوث ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا نام احادیث میںمہدی اور مسیح رکھا گیا ہے اور بتایاگیا ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا جبکہ مسلمانوں کے اندر سخت تفرقہ ہوگا اور ان کا اتحاد باقی نہ رہے گا ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ جس شخص کو دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کرے گا لوگ اس کی شدید مخالفت کریں گے اور اس پر حسد کریں گے۔پس وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جب ایسے شخص کو مبعوث کرے تو اس کے حاسدوں میں سے نہ بنیں بلکہ اس کے معاونین و انصار میں سے ہو کر خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں۔وہ مضامین جو اس سورۃ کے خلاصۃً بیان کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ یہ سورۃ اپنے مضمون کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور اُمت مسلمہ کو بحیثیت قوم اور افرا دکے ایک کامل دعا اس سورۃ کے ذریعہ سے سکھائی گئی ہے اور وہ اسباب جو قومی یا فردی طور پر تباہی کے پیدا ہوسکتے ہیں ان کو بیان کیاگیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ انسان جب تک خدا تعالیٰ کی حفاظت میں نہ آئے اس دنیا میں خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔پس امن کا صحیح راستہ یہی ہے کہ انسان ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکا رہے اور اس کی حفاظت طلب کرے۔