تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 40

نے اسی وقت حضرت ابو بکرؓ کو حکم دیا اور آپ نے اسے لکھ کر دے دیا کہ خدا تعالیٰ جب مسلمانوں کو غلبہ عطا کرے تو اس شخص سے نیک سلوک کیا جائے۔(بخـاری کـتـاب مناقب الانصار باب ھجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم) گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح صرف ایک واقعہ پیش نہیں آیا آپ کے ساتھ دو دفعہ یہ واقعہ ہوا کہ دشمن نے آپ کو پکڑنے کی کوشش کی مگر دونوں دفعہ وہ ناکام رہا۔پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیچھا کیا تو اس نے آپ کو دیکھ لیا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن باوجود پاس پہنچ جانے کے آپ کو دیکھ بھی نہیں سکا۔دوسری دفعہ جب دشمن نے آپ کو گرفتار کرنا چا ہا تو اس وقت بھی وہ ناکام رہا اور نہ صرف ناکام رہا بلکہ اس نے آپ کی برتری کو تسلیم کیا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دشمن فرعون کو خدا تعالیٰ اس وقت نظر آیا جب وہ ڈوب رہا تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس نے کہا میں موسیٰ اور ہارون کے خدا پر ایمان لاتا ہوں۔اس کے جوا ب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا تو آخری وقت میں ایمان لایاہے اب تجھے نجات تو نہیں دی جا سکتی مگر تیرے بدن کو نجات دے دی جائے گی تاکہ تو دوسروں کے لئے عبرت کا موجب ہو۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنے کے لئے جو دشمن نکلا وہ زندہ رہا اور اپنی زندگی میں اس نے تسلیم کر لیا کہ آپ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔بلکہ اس نے آپ سے یہ اقرار نامہ لکھوالیا کہ جب خدا تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا کرے تو مجھ سے حسن سلوک کیا جائے اور پھر خدا تعالیٰ نے اسے آپ کے غلبہ تک زندہ رکھا اور مسلمانوں نے اس سے حسن سلوک کیا۔یہ کتنی بڑی فضیلت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حاصل ہے۔چھٹی فضیلت (۶)ایک فرق حضرت موسیٰ علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بھی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دشمن تو تباہ ہوا لیکن دشمن کے تباہ ہو جانے کے بعد اس کے ملک پر آپ کو غلبہ میسر نہیں آیا۔بے شک بعض جاہل علماء یہ کہہ دیتےہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بعد میں اس ملک پر قبضہ مل گیا تھا اور ایک آیت کے غلط معنے کر کے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا نہ قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی بائبل سے ثابت ہو تا ہے۔یوں ہی کہہ دینے سے آپ کو مصر کے ملک پر غلبہ حاصل ہو گیا تھا کیا بنتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے بعد میں وہ جنگلوں میں پھرتے رہے اور اپنی منزلِ مقصود کو ایک لمبے عرصہ تک نہ پا سکے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے جب شکست کھائی تو آپ ان کے ملک پر بھی قابض ہو گئے اور یہ آپ کی موسیٰ علیہ السلام پر برتری ہے۔ساتویں فضیلت (۷)حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو سب سے پہلا مقابلہ ریڈ سیRED SEA میں