تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 434

مِنَ التَّفْلِ۔یعنی اس نے تھوکا اور بعض اہل لغت کہتے ہیں کہ نَفَثَ کا لفظ اس طور پر تھوکنے کے لئے استعمال ہوتا ہے کہ منہ سے آواز تو نکلے لیکن تھوک نہ نکلے یا جیسے منہ سے پھونک ماری جاتی ہے اور آواز نکلتی ہے ویسے آواز نکلے اور نَفَثَ فُلَانًا کے معنے ہیں سَـحَرَہٗ اس نے اس پر جادو کیا اور جب نَفَثَتِ الْـحَیَّۃُ السَّمَ کہیں تو معنے ہوتے ہیں نَکَزَتْ۔سانپ نے زہر نکالااور نَفَثَ الْقَلَمُ کے معنے ہیں کَتَبَ قلم نے لکھا اور نَفَثَ اللہُ الشَّیْءَ فِی الْقَلْبِ کے معنے ہوتے ہیں اَلْقَاہُ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں کوئی بات القاء کی۔(اقرب) پس نَفَّثٰت کے معنے ہوں گے۔بہت تھوکنے والے گروہ یا نفوس (۲) زہر اُگلنے والے گروہ یا نفوس۔(۳) دلوں میں وسوسے ڈالنے والے گروہ یا نفوس۔(۴) بہت لکھنے والے گروہ یا نفوس۔اَلْعُقَدُ :اَلْعُقْدَۃُ کی جمع ہے اور اَلْعُقْدَۃُ کے معنے ہوتے ہیں اَلْوِلَایَۃُ عَلَی الْبَلَدِ۔یعنی کسی شہرپر حکومت۔نیز اَلْعُقْدَۃُ کے معنے ہیں اَلضَّیْعَۃُ۔جاگیر۔اَلْعِقَارُ الَّذِیْ اِعْتَقَدَ ہٗ صَاحِبُہٗ مِلْکاً اَیْ اِقْتَنَاہُ۔وہ جائیداد جس کوکوئی شخص اپنی ملکیت خیال کرتا ہے نیز عقدہ کے معنے ہیں مَوْضِعُ الْعَقْدِ گرہ لگانے کی جگہ۔اسی طرح اَلْعُقْدَۃُ کے معنے ہیں مَا یُـمْسِکُ الشَّیْءَ وَیُوْثِقُہٗ گرہ۔اَلْبَیْعَۃُ الْمَعْقُوْدَۃُ لِلْوُلَاۃِ وہ بیعت جو حکمرانوں کے ہاتھ پر کی جاتی ہے اس کو بھی عقدہ کہتے ہیں۔اَلْمَکَانُ الْکَثِیرُ الشَّجَرِ وَالنَّخْلِ وَالْکَلَأِ الْکَافِیْ لِلْاِبِلِ۔اس جگہ کو بھی عقدہ کہتے ہیں جہاں پر کثرت سے درخت، گھاس اور پانی ہو جو اونٹوں اور دیگر جانوروں کے لئے کافی ہو۔وَمَا فِیْہِ بَلَاغُ الرَّجُلِ وَ کِفَایَتُہٗ۔وہ چیز جس پر انسان کا سہارا ہو نیز اَلْعُقْدَۃُ کے معنے ہیں کُلُّ اَرْضٍ مُـخْضَبَۃٍ۔سرسبز زمین۔وَالْعُقْدَۃُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ وُجُوْبُہٗ وَاِحْکَامُہٗ وَاِبْرَامُہٗ اور ہر چیز کی عقدہ اس کو کہیں گے جس کو پورا کرنا اور پختہ رکھنا ضروری ہو۔(اقرب) مفردات میں ہے اَلْعَقْدُ۔اَلْـجَمْعُ بَیْنَ اَطْرَافِ الشَّیْ ءِ۔کہ عقدکے معنے دو چیزوں کی اطراف کو اکٹھا کرکے باندھنے کے ہیں لیکن کبھی یہ لفظ مجازاً استعمال ہوتا ہے مثلاً ہر اس عہد اور امر کو عقد کہیں گے جس کی خلاف ورزی نہ کی جاسکتی ہویا جس کو کالعدم قرار نہ دیا جا سکتا ہے۔پس وَمِنْ شَـرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ کے معنے ہوں گے (۱) میں پناہ چاہتاہوں ان نفوس کے شر سے جو دوستیوں اور معاہدات کو تڑوا دیں۔(۲) میں پناہ چاہتاہوں ان گروہوں کے شر سے جو خلفاء کا مقابلہ کروائیں اور ان کی بیعت تڑوادیں۔(۳) میں پناہ چاہتاہوں ان نفوس کے شر سے جو اتحاد کو برباد کرائیں اور مسلمانوں کی حکومتوں کو تباہ کرائیں۔