تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 433

تبدیل ہوگئیں۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں ضائع نہیں ہوئیں اور نہ امت محمدیہ کے افراد کی دعائیں رائیگاں گئیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان دعائوں کی وجہ سے ہی فیصلہ کیا کہ آسمانِ اسلام پر ایک ایسا چاند طلوع کرے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو اسی طرح سے دکھادے گا جس طرح چودہویں کا چاند سورج کو دکھاتا ہے۔پھر یہ امر بھی یادر کھنا چاہیے کہ معوّذتین کے بعد قرآن کریم ختم نہیں ہوجاتا بلکہ جیسا کہ مسلمانوں میں دستور ہے قرآن کریم کے خاتمہ کے بعد پھر شروع کی آیات پڑھی جاتی ہیں تا کہ تسلسل قائم ہوجائے اوریہ ظاہر ہے کہ قرآن کریم اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سے شروع ہوتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ترقی کے بعد زوال ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہر رات کے بعد دن نکلے۔اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اَعُوْذُ کے بعد دوبارہ سورج چڑھتا ہے پہلے انبیاء کا سورج جب غروب ہوا تو پھر نئی اُمت قائم کی گئی ہے مگر قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ اَعُوْذُ کے طفیل دوبارہ پھر حمدآجاتی ہے اور وہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے گویا اس میں بتایا گیا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر چلنے والا پھر ترقی کرے گا۔پھر یہ تمام دور اس پر گذریں گے اور پھر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اَعُوْذُ آڑے آئے گا اور پھر فلق محمدی شروع ہوگا۔یہ د۲و اَعُوْذُ جو قرآن کریم کے آخر میں رکھے ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ سلسلہ محمدی ختم نہ ہوگا۔پس یہ حکمت تھی آخر میں اَعُوْذُ رکھنے کی۔باقی کتابوں کے شروع میں اَعُوْذُ تھا اس لئے وہ ختم ہوگئیں۔لیکن قرآن کریم کے شروع میں بھی اَعُوْذُ پڑھنے کا حکم ہے اور آخر میں بھی اَعُوْذُ نازل کردیا گیا ہے اور ہر فرد امت کو اس کے پڑھنے کا حکم ہے۔گویا یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ ختم نہ ہوگا بلکہ برابر چلتا رہے گا۔وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِۙ۰۰۵ اور (تمام ) ایسے نفوس کی شرارت سے (بچنے کے لئے بھی ) جو (باہمی تعلقات کی) گِرہ میں (تعلق تڑوانے کی نیت سے ) پھونکیں مارتے ہیں۔حلّ لُغات۔اَلنَّفَّاثَاتُ: اَلنَّفَّاثَۃُ کی جمع ہے جو نَفَثَ سے مبالغہ کا مؤنث کاصیغہ ہے اور نَفَثَ مِنْ فِیْہِ کے معنے ہیں رَمٰی بِہٖ۔یعنی کسی چیز کو منہ سے پھینکا اور جب نَفَثَ الْـجُرْحُ الدَّمَ کہیں تو معنے ہوں گے اَظْھَرَہٗ۔زخم سے خون نکل آیا۔نیز نَفَثَ کے معنے ہیں بَزَقَ وَقِیْلَ بَزَقَ وَلَا رِیْقَ مَعَہٗ اَوْ ھُوَ کَا لنَّفْخِ وَاَقَلُّ