تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 432

دوستیاں چھوڑ دیتے ہیں۔اور ہمدرد بھی مخالف ہوجاتے ہیں گویا ایک قسم کی ظلمت چھا جاتی ہے اور اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتاہے۔فرمایا ایسے وقت میں مَیں اللہ تعالیٰ کی ہی پناہ چاہتاہوں۔اسی طرح سے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں کمال کے حصول کے لئے دعا سکھائی گئی تھی۔اس کے بعدوَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کا اس مضمون کے ساتھ یہ تعلق ہے کہ ایسا شخص یہ التجاء کرتا ہے کہ کمال کے حصول کے دوران میںان چیزوں کے بدا ثر سے میری ذات کو بچا جو غفلت کی حالت میں مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں او ربے خبری میں اچانک مجھ پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جب مسلمانوں پر ظلمت اور تاریکی آنی ہی تھی تو پھر دعائوں کی کیا ضرورت تھی۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ ان دعائوں سے بے شک ساری قوم کلیۃً فائدہ نہ اٹھا سکی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مسلمانوں کی دعائوں سے بیج کو ہر زمانے میںمحفوظ رکھا اور ایسی چنگاری باقی رہتی چلی گئی جس سے ہرزمانے میں دوبارہ آگ روشن کی جاسکتی تھی۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے اس لئے دعائیں کرائیں کہ مسلمانوںکی ترقیات کے زمانہ میں اُمت کا جو حصہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مناسبت رکھتاہو آپ کی دعائوں کے طفیل بچ جائے اور آپؐسارے زمانوں کے لئے شفیع ہوسکیں چونکہ اس شر کا تعلق جس کے پھیلنے کی پیشگوئی مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کے الفاظ میں کی گئی تھی ساری امت سے تھا اس لئے پہلی صدی میں بھی جن لوگوں نے اپنی مناسبت کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں سے حصہ پایا وہ گویا آپ کی شفاعت سے نجات پاگئے۔اور اس طرح آپ ان کے لئے بھی شفیع ہوئے۔اسی طرح دوسری تیسری یا بعد کی صدیوں میں جولوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مناسبت کی وجہ سے اس دعا کے باعث روحانی شرور سے بچ گئے وہ آپ کی شفاعت کے مستحق ہوگئے۔او ر اس طرح ہر دور میں ایسے لاکھوں انسان جن کی دعائیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں سے مل گئیں وہ بچ گئے او رباوجود اس کے کہ شر ترقی کرتا گیا اور وہ تاریکی کا زمانہ آگیا جو مقدر تھا اور اس نے محمدی نور کو ڈھانپ لیا اور اسلام سے مسلمانوں کا تعلق نام کا رہ گیا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہوگئی جس میں آپؐنے فرمایا تھا کہ لَایَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْـمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُراٰنِ اِلَّا رَسْـمُہٗ۔(مشکوٰۃ کتاب العلم ) کہ ایک زمانہ میں اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور اس پر عمل نہیں ہوگا اور اسی طرح قرآن کریم صرف تحریر میں باقی رہ جائے گا اور اس کے احکام پر عمل چھوڑ دیا جائے گا۔پس ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں کی بدولت اسلام کو بچانے کے لئے ایک فارسی الاصل انسان کو کھڑا کر دیا۔جو قرآن کو پھر آسمان سے زمین پر لایا اور جس کی وجہ سے مسلمانوں کی راتیں روشن دنوں میں