تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 431

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کی تشریح کرتے ہوئے بتایاگیا ہے کہ فلق کے متعدد معنے ہیں۔اس کے معنے جہنم کے بھی ہیں اس کے معنے لکڑی کے بھی ہیں جس میں قیدیوں کو جکڑا جاتا ہے اور اس کے معنے اس دودھ کے بھی ہیں جو پیالہ میں تھوڑا سا رہ جاتا ہے۔ان معنوں کے اعتبار سے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ وہ ان حالات سے پناہ مانگیں کہ جن سے قوم یا افراد جہنم میں جاپڑیں۔اسی طرح وہ ان اسباب سے محفوظ رہنے کی دعا مانگیں جن سے قید خانوں کا منہ دیکھنا پڑے۔یا وہ اس بات سے پناہ مانگیں کہ ان سے قرآنی تعلیم اٹھ جائے اور ان کے پاس اس کا بہت تھوڑا سا حصہ رہ جائے۔پس یہ ساری حالتیں تنزّل کی ہیں اور تاریکی کے مشابہ ہیں۔ان سب حالتوں سے بچنے کے لئے وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں جامع دعا سکھائی گئی ہے اور بتایا گیاہے کہ اُمت مسلمہ کے ہر فرد کو یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ چین و آرام کے بعد جھگڑوں میں پڑنے اور حکومت کے بعد ماتحتی کی ذلّت سے بچائے اور ایسے حالات سے محفوظ رکھے جن کی وجہ سے تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کی تفسیر میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ اس میں قومی دعا کے علاوہ فردی طور پر بھی کمال تک پہنچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے۔ان معنوں کے اعتبار سے مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کا یہ مفہوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ کے بعد جب ترقیات کا راستہ ملتا او رنور کا مینار روشن دکھائی دیتا ہے اس وقت اگر اندھیرا ہوجائے تو وہ پہلی حالت سے بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے جیسے انسان جب روشنی سے یکلخت اندھیرے میں آجائے تو اسے کچھ نظر نہیں آتا۔روحانی مراحل طے کرتے ہوئے اس قسم کی حالتیں مومن پر آتی رہتی ہیں۔قرآن کریم سے بھی پتہ چلتا ہے کہ قبض اور بسط دونوں حالتیں مختلف اوقات میں مومن پر طاری ہوتی ہیں۔بعض دفعہ اسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ میں ہے۔یہ بسط والی حالت ہوتی ہے۔دوسری حالت میں اسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جو نور اسے نظر آیا تھا وہ غائب ہوگیا۔کئی نادان ایسی حالت میں مایوس ہوجاتے ہیں اور عین کامیابی کے سرے پر پہنچ کر ناکام رہتے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ جو کچھ انہیں نظر آیاوہ شاید نور نہیں تھا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کہ اے مسلم !تم دعا کرو کہ اے خدا جب تیرا نور حاصل ہوجائے تو قبض کی حالت میرے لئے روحانی موت کا موجب نہ ہوجائے بلکہ موجب ترقی ہو اور کمال کو دیکھنے کے بعد میں زوال کو نہ دیکھوں اور حسرت کی موت سے نہ مروں۔وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں یہ مضمون بھی بیان ہوا ہے کہ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کے حکم کے مطابق جب کامل توحید کو ماننے والا یہ اعلان کرتا ہے کہ مجھے کسی کی پروا نہیں۔تو اس وقت مخالفت شروع ہوجاتی ہے اور دوست