تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 422
پر جنّت میں داخل کردیا ہے۔كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا ( اٰلِ عمران:۱۰۴) تم آگ کے کنارے پر تھے تم کو نکا ل کر جنّت میں داخل کردیا۔اللہ نے تمہیں ذہنی اور قلبی سکون عطا کیا۔تم ایک ہاتھ پر جمع ہوگئے تم میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا وہ اعلیٰ مقام پیدا ہو گیا کہ تمہارے لئے یہ دنیا جنت بن گئی۔تم کو خدا تعالیٰ مل گیا اور تمہارے دلوں کو اطمینان حاصل ہو گیا۔پس ان نعمتوں کو یاد رکھو اور جہنّم کے رب کی پناہ میں آئو۔اور اس کے شدائد سے بچنے کے لئے بھی اس کی پناہ چاہو۔تاکہ جہنّم کبھی تمہارے قریب نہ آئے۔یعنی ایسی حالت پیدا نہ ہو کہ تمہارا انفرادی اور قومی اطمینان ختم ہوجائے۔تمہارے اندر لڑائی جھگڑے پیدا ہوجائیں۔تم قرآن کریم کی تعلیم کو چھوڑ دو اور یہ دنیا بھی تمہارے لئے جہنم بن جائے اور آخرت میں بھی جہنم دیکھنا پڑے۔(۴) چوتھے معنے الفلق کے دوپہاڑیوں کے درمیان کے میدان کے ہوتے ہیں۔بعض اقوام ایسی ہیں جو افراط کی طرف چلی گئی ہیں اور بعض تفریط کی طرف۔لیکن اللہ تعالیٰ کے حصول اور دنیا میں امن و امان کا اصل طریق میانہ روی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو امّت وسط قراردیا ہے کہ ان کی تعلیم میں نہ افراط پایا جاتاہے اور نہ تفریط۔اور جو ایسی تعلیم ہو وہ اعلیٰ درجہ کی ہوگی اور اس سے دنیا میں امن پیدا ہوگا۔تو فرمایا۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کہ اے مسلمانو!کہوہم اس رب کی پناہ چاہتے ہیں جس نے افراط اور تفریط کی دوپہاڑیوں کے درمیان اسلام جیسا خوبصورت میدان بنایا ہے۔جہاں دنیا کو چین اور آرام حاصل ہوسکتا ہے گویا ان آیات میں بتایا ہے کہ تم اس خدا کی پناہ چاہو جس نے اسلام جیسے بہترین مذہب کو بھیجا۔جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل انسان بھیجا اور جس کے ذریعہ سے تم کو قرآن جیسی کامل تعلیم ملی۔تم اس بات سے پناہ چاہو کہ تمہارے لئے کوئی شر پیدا نہ ہوجائے۔یعنی ایسا نہ ہو کہ کسی وقت کوئی ایسا شر پیدا ہو جس کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کی بہترین تعلیم سے علیحدہ ہوجائو۔اسلام کو چھوڑ دو او رمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے کنارہ کشی کر لو۔جس کا نتیجہ یہ ہو کہ تم مشکلات میں مبتلاہوجائو اور تمہاری زندگی تمہارے لئے مشکل ہوجائے۔اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اس کی ربوبیت سے فیض پانے کا صحیح طریق میانہ روی ہے نہ انسان افراط کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور نہ تفریط والے راستے کو اختیا رکر کے۔ہاں اگر میانہ روی کو اختیار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔لیکن اس تک پہنچنے میں بہت سی روکیں ہیں اور درحقیقت دنیا کا ہر ذرّہ اس تک پہنچنے میں روک ہے۔جولوگ ناکام رہتے ہیں وہ اسی لئے رہتے ہیں کہ وہ سمجھتے