تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 421
پتہ ہوتا کہ کل روپیہ آجائے گا یا نہیں مگر خرچ ہوتا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے کبھی تنگی نہ آنے دی۔تومومن بندوں کی طرف نگاہ نہیں کرتا۔بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکّل رکھتا ہے۔آگے اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے کہ وہ کسی کا امتحان فاقہ دے کر لینا چاہے تو لے لے یا کسی کو فراخی دے کر آزمانا چاہے تو آزمالے۔شیخ عبدالقادر صاحب جیلانیؒ کے متعلق لکھا ہے کہ بہت اعلیٰ لباس پہنتے تھے اور اعلیٰ کھا نا کھاتے تھے۔بعض اوقات ایک ایک جوڑا ان کا ایک ایک ہزار دینار یعنی اڑھائی تین ہزار روپے کا ہوتا تھا بعض نادان ان پر اعتراض بھی کرتے تھے مگر آپ جواب دیتے کہ میں توجو کپڑا پہنتا ہوں اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہنتاہوں۔میں تو کبھی کوئی کپڑا نہیں پہنتا جب تک اللہ تعالیٰ مجھے نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر تجھے میری ذات کی قسم یہ کپڑا پہن(گلدستہ کرامات ۸۰)۔تو بندہ کے توکّل کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کا ہوجائے۔چنانچہ فرمایا قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔جا دنیا کے لوگوں سے کہہ دے کہ میں اب خدا تعالیٰ کا ہو گیا ہوں مجھے تمہاری پرواہ نہیں۔اور اگر لوگ اس دعویٰ کی وجہ سے تم پر حملہ کرنے کے لئے اٹھیں تو تم کہنا کہ میں تمہاری ایذائوں سے بے نیاز ہوں اور ان کے لئے بھی اپنے رب سے پناہ مانگتا ہوں۔(۳)تیسرے معنے فلق کے جہنم کے ہیں۔ان معنوں کے اعتبار سے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کا مفہوم یہ ہوگا کہ میں جہنم کے پیدا کر نے والے رب کی پناہ میں آتا ہوں اور ان شدائد سے بھی جو اس جہنم میں پیدا کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(الرّحـمٰن:۴۷) کہ جو خدا کے بندے ہوتے ہیں ان کو اس دنیا میں بھی جنت ملتی ہے اور آخرت میں بھی۔اور پھر نبی کے ذریعہ جو نظام قائم ہوتا ہے اس کو بھی جنت کہا گیا ہے۔جیسے حضرت آدم علیہ السلام کو فرمایا۔اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ۔(البقرۃ:۳۶) کہ اے آدم تم اور تمہارے ساتھی اس نظام میں رہو جس میں رہنے کا ہم نے تمہیں حکم دیا ہے۔کیونکہ اگر تم اس میں رہو گے تو تمہارے لئے یہ دنیا جنت بن جائے گی۔قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے واقعات کو بیان کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آدم ہیں اور آپ کے ذریعہ بھی ایسا نظام جاری کیا گیا ہے جو اس زمین کے رہنے والوں کو جنّتی بنادے گا۔اور وہ آرام کی زندگی بسر کریں گے۔پس قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اے مسلمانو ! تم کو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل کر کے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کر کے تمہیں انفرادی اور اجتماعی طور