تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 38

کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپ بھی تو مانتے ہیںکہ حضرت مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام ) نبی ہیں پھر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم کی حفاظت کے لئے کوئی نبی نہیں آیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب قرآن کریم کی ظاہری شکل کو محفوظ کرنے کےلئے نہیں آئے۔آپ آتے یا نہ آتے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ظاہری حفاظت کے سامان بہم پہنچا دیئے تھے اور قرآن کریم میں کوئی تغیر نہیں ہو سکتا تھا۔آپؑکا آنا اس معجزہ کو ہرگز مشتبہ نہیں کرسکتا کیونکہ آپ کا قرآن کریم کی حفاظت ظاہری میں کوئی دخل نہیں۔خواہ قیامت تک ایک مجدد بھی نہ آتا یا نہ آئے تب بھی قرآن کریم کی ظاہری صورت محفوظ رہے گی اور کبھی نہ بدلے گی جس طرح وہ آج تک نہیں بدل سکی۔پانچویں فضیلت (۵) حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنے ملک سے نکلے اور فرعون نے آپ کا تعاقب کیا تو جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے آپ کی قوم سخت گھبرا گئی اور اس نے سمجھا کہ اب وہ فرعون کی گرفت سے نہیں بچ سکتی۔چنانچہ انہوں نے چلّا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ (الشعرآء:۶۲) اے موسیٰ ہم تو پکڑے گئے۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں کہا کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ(الشعرآء:۶۳) ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے اور وہ ہمیں دشمنوں کے حملہ سے بچا لے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا اور فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہو گیا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کے وقت مکہ سے نکلے اور غار ثور میں پناہ گزین ہوئے تو دشمن ایک تجربہ کار کھوجی کی راہنمائی میں آپ کو تلاش کرتے کرتے عین اس غار کے منہ پر جاپہنچا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھپے ہوئے تھے اس وقت کھوجی نے انہیں کہا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) یقیناً یہاں چھپے ہوئے ہیں اور اگر وہ اس غار میں نہیں تو پھر آسمان پر چلے گئے ہیں دشمن اس وقت آپ سے اتنا قریب تھا کہ حضرت ابو بکرؓجو آپ کے ساتھ تھے گھبرا گئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ! دشمن تو اس قدر نزدیک ہے کہ اگر وہ ذرا جھک کر اندر جھانکے تو ہمیں دیکھ سکتا ہے۔آپ نے اس وقت بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ ابو بکر گھبراتے کیوں ہو اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبۃ:۴۰) اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہماری مدد کرے گا۔چنانچہ باوجود اس کے کہ دشمن عین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تھے پھر بھی وہ خائب و خاسر واپس چلا گیا اور وہ آپ کو پکڑنے میں ناکام رہا۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے اور وہ ہماری مدد کرے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی کہا کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے وہ ہماری مدد کرے گا لیکن اگرغور کیا جائے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دشمن کا تباہ ہوجانا اس طرح تھا کہ دشمن اب بھی کہہ دیتا ہے کہ موسیٰ اور آپ کی قوم سمندر سے گذرے ہی اس وقت تھے جب