تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 414

کہ مخلوق کی حالت پہلے ادنیٰ ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ اعلیٰ بنا دیتا ہے پس اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں جہاں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں پناہ مانگنے کے اسباب بھی بتادئیے ہیں یعنی ہم اس سے پناہ مانگ سکتے ہیں جو اشیاء کا خالق و مالک ہو اور جو نقصان رساں چیزوں سے محفوظ رکھ کر ترقیات کے بلند مقام پر پہنچا سکتا ہے۔جیسے اگر کسی شخص کے پیچھے کوئی کتا پڑے تو اس کتے کا مالک ہی اس کے ضرر سے بچا سکتا ہے۔اب ایک تو اس میں یہ بتایا ہے کہ جس ہستی سے پناہ مانگنے کا حکم ہے وہ تمہارے آقا ومالک کی ہستی ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ وہ پناہ دینے والی ایسی ہستی ہے جو مخلوقات کو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جا سکتی ہے۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ جو چیز بھی اس نے پیدا کی ہے اس کے شر سے میں اس کی پناہ چاہتاہوں۔اس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس میں سے شر نہ پیدا ہو سکے۔عام طور پر لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ بعض چیزیں اچھی ہیں اور بعض بری۔مگر قرآن کریم بتاتاہے کہ یہ صحیح نہیں۔ہر چیز اچھی بھی ہے اور ہر چیز بری بھی ہے۔کوئی اچھی بات نہیں جس میں شر نہ ہو اور کوئی بری بات نہیں جس میں خیر نہ ہومثلا غربت و امارت ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتو دولت بھی شر پیداکرسکتی ہے اور اگر فضل ہو تو غربت بھی کوئی شر پیدا نہیں کرسکتی۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کتنی دولت دی وہ خود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے حساب رزق دیا ہے مگر یہ دولت ان کے لئے خیر کا موجب ہی رہی شر کا موجب نہ بنی۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ بڑے مالدار تھے۔حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف جب فوت ہوئے تو انہوں نے اپنے بعد اڑھائی کروڑ روپے کی جائیداد چھوڑی۔حالانکہ باقی صحابہ کا بیان ہے کہ وہ ہم سب سے زیادہ مالدار نہ تھے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف سے بھی زیادہ مالدار صحابہؓ میں موجود تھے۔مگر باوجود اس کے اس قدر مال و دولت ان کے لئے شر نہ بنی۔اسی طرح صحابہؓ پر ایک وہ وقت بھی آیا جبکہ وہ غریب تھے مگر غربت کے باوجود شر کا پہلو ان کے لئے ظاہر نہ ہوا۔حالانکہ دوسری طرف ہمیں یہ بھی نظر آتاہے کہ ڈاکو اور چو رجس قدر بنتے ہیں محض کنگال ہونے کی وجہ سے بنتے ہیں۔پس شر درحقیقت اسی وقت پیدا ہوتاہے جب انسان خدا تعالیٰ کی حفاظت سے باہر نکل جائے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ۔الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں خدا تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ یہ نہ کہا کرو کہ یہ بری چیز ہے مجھ سے دور رہے اور فلاں اچھی چیز ہے مجھے مل جائے۔کیونکہ بری چیز کی برائی اور اچھی چیز کی خوبی سب اَعُوْذُ سے دُوری اور نزدیکی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اگر اَعُوْذُ نہ ہوتو اچھی چیز بھی بری بن جاتی ہے اور اگر اَعُوْذُ کا سہارا ساتھ ہو تو بری چیز بھی خیر کا موجب بن جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی کتاب کا علم رکھنا اور اس پر عمل کرنا کتنی اچھی چیز ہے۔مگر قرآن کریم میں ہی یہودیوں کے علماء