تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 405

چنانچہ سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہے یہ نہیں کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ سے شروع ہو۔الغرض قرآن کریم کو شروع کرتے وقت حکم تو دیا کہ اَعُوْذُ پڑھا کرو لیکن اَعُوْذُ اتارا نہیں۔اور قرآن کریم کے خاتمہ کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ جب تم قرآن کریم ختم کر لیا کرو تو اَعُوْذُ پڑھا کرو۔لیکن اس کے خاتمہ پر اپنی طرف سے وحی کی صورت میں اَعُوْذُ نازل کردیا ہے اور اس کے لئے دوسورتیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس بھی آخر میں رکھ دی ہیں۔جو لازماً قرآن کریم پڑھنے والے کو پڑھنی پڑتی ہیں۔سویاد رکھنا چاہیے کہ اس طریق کے اختیار کرنے میں کئی ایک حکمتیں ہیں :۔۱۔جب انسان کسی نیک کام کا ارادہ کرتا ہے تومحض ارادہ ہی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے کامل فضلوں کا وارث نہیں ہوجاتا۔ارادہ کے ساتھ انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے صحیح تعلیم مل جاتی ہے۔یعنی اس کے ارادہ میں مدد دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب قرآن کریم کے ابتداء میں اَعُوْذُ پڑھنے کے متعلق فرمایا تو وحی کے ذریعہ اَعُوْذُ کو اتارا نہیں بلکہ صرف اتنا فرمایا کہ جب تم قرآن کریم پڑھنے کا ارادہ کرو تو اَعُوْذُ پڑھ لیا کرو۔گویا ارادہ کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بتادیا۔لیکن جب قرآن کریم پڑھ لیا اور عمل کرلیا تو آخر میں اَعُوْذُ والی سورتیں رکھ دیں۔یعنی انسان کے اختیا رکے بغیر اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد سے اَعُوْذُ پڑھوا دیا۔پس معلوم ہوا کہ جب انسان نے ارادہ کیا تو ارادہ ہی کی امداد دی گئی۔اور جب اس نے عمل کر لیا تو اس کو عمل کر کے امداد دی گئی۔۲۔جب بھی کوئی مسلمان قرآن کریم کو پڑھے گا خواہ ابتدا سے پڑھے یا درمیان سے یاآخر سے۔تو اس وقت تک وہ قرآنی احکام کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہوگا۔کیونکہ اس نے قرآن کریم کا ابھی مطالعہ نہیں کیا۔مگر جس وقت پڑھنے والا سارا قرآن کریم شروع سے آخر تک ختم کر لیتا ہے تو ایمان کی باریکیوں سے بھی واقف ہوجاتا ہے اور اس کے سامنے اعمال کی تفصیلات بھی آجاتی ہیں اور اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اسے کون کون سے اعمال بجالانے چاہئیں اور کن اعما ل کے کرنے سے مجتنب رہنا چاہیے اور پھر اسے یہ بھی علم ہوجاتا ہے کہ ٹھوکروں کی کیا کیا نوعیتیں ہوتی ہیں۔گویا قرآن کریم پڑھ لینے کے بعد انسان کا ذہن کھل جاتا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگ جاتا ہے اور گھبراتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کروں۔پس ان دونوں حالتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ہمیں اَعُوْذُ سکھایا ہے۔قرآن کریم کی ابتدا کرتے وقت صرف اتنا ہی حکم دیا کہ اَعُوْذُ پڑھ لیا کرو۔اور اس اَعُوْذُ کے جو الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے ہیں وہ بہت ہی مختصر ہیں۔گویا قرآن کریم کے پڑھنے والے کی ذہنی کیفیت کے مطابق ہیں۔اور قرآن کریم کے آخر میں جو اَعُوْذُ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے وہ بہت زیادہ وسیع