تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 398

وَالرِّوَایَۃُ الْاُوْلٰی اَصَـحُّ مِنْ ھٰذِہٖ۔(روح المعانی ) چونکہ مفسّرین نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی روایت کو ترجیح دی ہے اس لئے ہم صرف اسی روایت کا ترجمہ کرتے ہیں۔’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہودیوں کی طرف سے جادو کیا گیا اور اس کا اثر یہاں تک ہوا کہ آپ بعض اوقات یہ سمجھتے تھے کہ آپ نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ایک دن یا ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی پھر دعا کی او رپھر دعا کی۔پھر فرمایا اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ سے جو کچھ میں نے مانگا تھا وہ اس نے مجھے دے دیا۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا ہے۔توآپ نے فرمایا کہ میرے پاس دو آدمی آئے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پائوں کے پاس۔پھر وہ شخص جو میرے سر کے پاس بیٹھاہواتھا اس نے پائوں کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کر کے کہا۔یا غالباً یہ فرمایا کہ پائوں کے پاس بیٹھنے والے نے سر کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ اس شخص (یعنی محمد رسول اللہ) کو کیا تکلیف ہے تو دوسرے نے جواب دیا کہ جادوکیا گیا ہے۔اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے۔تو اس نے جواب دیا۔لبید بن الاعصم یہودی نے۔تب پہلے نے کہا کہ کس چیز میں جادو کیاگیا ہے۔تو دوسرے نے جواب دیا کہ کنگھی او رسر کے بالوں پر جو کھجور کے خوشہ کے اندر ہے۔پہلے نے پوچھا یہ چیزیں کہاں ہیں۔تودوسرے نے کہا یہ ذی اروان کے کنوئیں میں ہیں۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ سمیت اس کنویں کے پاس تشریف لے گئے پھر فرمایا اے عائشہ اللہ کی قسم کنویں کا پانی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہوتاہے (معلوم ہوتا ہے یہودیوں میں یہ رواج تھا کہ جب وہ کسی پر جادو ٹونا کرتے تھے تو مہندی یا اسی قسم کی کوئی اور چیز پانی میں ڈال دیتے تھے۔یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ جادو کے زور سے پانی کو سرخ کیا گیا ہے ) اور وہاں کی کجھوریں ایسی تھیں جیسے شیاطین یعنی سانپوں کے سر ( اس میں کجھور کے گابھوں کو سانپوں کے سروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔یعنی کجھوریں گابھوں والی تھیں) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ آپ نے اس چیز کو جس پر جادو کیا گیا تھا جلا کیوں نہ دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جب اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی تو میں نے ناپسند کیا کہ کوئی ایسی بات کروں جس سے شر کھڑا ہو۔(یعنی یہودیوںکو یہ شور مچانے کا موقع ملے کہ انہوں نے ہماری چیزوں کو جلا دیا ہے )اس لئے میں نے حکم دیا کہ ان اشیاء کو دفن کردیا جائے چنانچہ ان کو دبادیا گیا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں جن دو مردوں کا ذکر