تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 396
سُوْرَۃُ الْفَلَقِ مَدَنِیَّۃٌ سورۃ الفلق۔یہ سورۃ مدنی ہے وَھِیَ سِتُّ اٰیَاتٍ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ اور بسم اللہ سمیت اس کی چھ آیات ہیں سورۃ الفلق مدنی سورۃ ہے حسن، عطاء، عکرمہ اور جابر کہتے ہیں کہ یہ سورۃ مکّہ میں نازل ہوئی۔حضرت ابن عباسؓ کا ایک قول یہ ہے کہ یہ سورۃ مدنی ہے او رقتادہؓ بھی یہی کہتے ہیں۔(روح المعانی تعارف سورۃ الفلق) سورۃ الفلق کے نزول کے متعلق ایک روایت علّامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب اتقان میں لکھا ہے کہ مختار قول یہی ہے کہ یہ سورۃ مدنی ہے۔جولوگ اس بات کے حق میں ہیں کہ یہ سورۃ مدنی ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سورۃ اور اس کے بعد کی سورۃ کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کے ساتھ ہے جس میں یہ سمجھا گیا تھا کہ یہود کی طرف سے آپ پر جادو کیا گیا ہے۔اس وقت یہ دو سورتیں نازل ہوئیں اور آپ نے ان کو پڑھ کر پھونکا۔مفسّرین کہتے ہیں کہ چونکہ یہ واقعہ مدینہ میں ہوا تھا اس لئے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس مدنی ہیں۔بہر حال ترجیح اسی کو دی گئی ہے کہ یہ دونوں سورتیں مدنی ہیں۔یہ مفسرین کا ایک استدلال ہے تاریخی شہادت نہیں۔گو ہمارے پاس بھی ایسی کوئی یقینی شہادت نہیں کہ جس کی بنا پر ہم کہہ سکیں کہ یہ مکّی سورۃ ہے۔مگر جو استدلال کیا گیا ہے وہ بھی بودا ہے کیونکہ خواہ یہ سورۃ مکّہ میں نازل ہوتی تب بھی تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کے موقع پر اس کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک سکتے تھے۔پس محض پھونکنے سے یہ سمجھنا کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی تھی یہ استدلال درست نہیں۔لیکن چونکہ ان سورتوں سے قرآن کریم کو ختم کیاگیا ہے ہم اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ سورۃ یا تو مکہ اور مدینہ دونوں میں نازل ہوئی ہے اور یا پھر مدنی ہے۔کیونکہ قرآ ن کریم کا اختتام مدینہ منورہ میں ہواہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیمار ہونا اور لوگوں کا یہ سمجھنا کہ آپ پر یہودیوں کی طرف سے جادو کیا گیا ہے یہ واقعہ جن الفاظ میں روایت کیا گیا ہے وہ الفاظ یہ ہیں :۔عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـھَا قَالَتْ سُـحِرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی اَنَّہٗ