تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 35
ہے۔یوروپ والے آج تک کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ بھی ایسا کرسکیں مگر اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔اب انہوں نے ممیوں سے مصالحے نکال کر ان کا انیلے سز ANALYSIS کیا ہے اور وہ ایک حد تک ان کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔مگر پھر بھی ان کا مصالحہ صرف دس بارہ سال تک جاتا ہے۔لیکن مصری مردے ہزاروں سال سے محفوظ چلے آرہے ہیں ۳۴ سو سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ کے مردے اب تک محفوظ ہیں۔یہ کتنی بڑی ترقی تھی جس کا مقابلہ آج کل کی قومیں بھی نہیں کر سکیں۔پھر مصری قوم میں سو نے کا کام نہایت اعلیٰ درجہ کا ہو تا تھا جو ان کی ترقی کی ایک بیّن علامت ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مصری قوم کے ساتھ رہنے والے لوگ کتنے متمدن اور ترقی یافتہ ہو ں گے۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قوم سے کام لیا جو متمدن تھی اور ظاہری علوم سے بہرہ ور تھی۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوم سے کام لیا جو اپنی ماؤں کا ادب کرنا بھی نہیں جانتے تھے بلکہ ان سے شادی کر لیتے تھے(روح المعانی زیر آیت وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُ كُمْ) اور دوسرے نقائص بھی ان میں پائے جاتے تھے۔پھر آپ اپنے کام میں کامیاب ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر کامیاب ہوئے۔تیسری فضیلت (۳) حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب نبوت ملی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ یہ کام بہت بڑا ہے مجھ سے نہیں ہوسکے گا۔میرے ساتھ ایک اور آدمی بطور مدد گار مقرر کر دیجئے اور پھر آپ نے یہ بھی کہا کہ وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ (طٰہٰ :۳۰) وہ مدد گار بھی مجھے میرے رشتہ داروں میں سے ہی ملنا چاہیے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا احساس دیکھو کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو نبوت کے مقام پر سرفراز کیا گیا تو آپ نے کہا میں یہ کام نہیں کرسکتا خدا آپ کے سپرد ایک کام کرتا ہے اور موسیٰ علیہ السلام انکار کرتے ہیں۔ہم مان لیتے ہیں کہ یہ انکسار تھا مگر انکساری کی بھی کوئی حد ہو نی چاہیے۔خدا تعالیٰ نے بار بار آپ سے کہاکہ تم فرعون کی طرف جاؤ مگر جیسا کہ تورات سے معلوم ہو تا ہے آپ جواب میں انکار ہی کرتے چلے گئے۔پھر آپ کا اپنے ساتھ ایک مدد گار مانگنے پر اصرار کرنا اور یہ کہنا کہ وہ ہو بھی میرے خاندان میں سے ہی، یہ بتاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام با وجود خدا تعالیٰ کے حکم کے اپنے کام میں دنیوی سامانوں کی مدد بھی چاہتے تھے۔اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو نبوت کے زمانہ سے کتنے دور تھے (موسیٰ علیہ السلام کے تو قریب کے ہی زمانہ میں حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کئی انبیاء گذرے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں ۲۵۰۰ سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہوئے اس کے بعد آپ کی قوم میں کوئی نبی نہیں آیا) مگر آپ کی معرفت دیکھو آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا اِقْرَاْ جس کے معنے یہ ہیں کہ تو پڑھ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم