تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 383

قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اور سورۃ فاتحہ کے مضامین کا اشتراک جیساکہ اوپر کی سطور میں اشارۃً بیان ہوچکا ہے قرآن کریم کی آخری تین سورتوں میں سورۃ فاتحہ کا مضمون بیان ہواہے۔سورۃ الاخلاص میں اس طور پر کہ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ جو ہے یہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مضمون کی حال ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔توحید کا مل او رتوکل کامل پر دلالت کرتے ہیں۔توحید کامل کا نتیجہ توکل کامل ہوتا ہے جب انسان سمجھ جائے کہ اور کچھ ہے ہی نہیں۔تو پھر خدا کے سوا وہ کسی پر سہارا نہیں کرسکتا۔کسی مقام پر ڈاکٹر بھی ہو حکیم اور وَید بھی اور ہومیو پیتھک ڈاکٹر بھی تو ڈاکٹر کے علاج سے آرام نہ ہونے کی صورت میں تیماردار حکیم کی طرف بھاگے جاتے ہیں اور اس کی دوائی سے فائدہ نہ دیکھ کر وَید کی طرف اور پھر ہومیو پیتھک معالج کی طرف پھرایک ہی قسم کے ڈاکٹر ہی اگر ایک سے زیادہ ہوں تو کبھی گھبرا کر ایک کی طرف جاتے ہیں اور کبھی دوسرے کی طرف۔مگرجب نظر ہی کوئی نہ آئے تو کوئی دوڑ دھوپ نہیں ہوتی۔سورۃ الاخلاص میں توحید کامل اور توکل کامل تو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ نے توحید کامل کا مضمون بیان کیا ہے یایوں کہو کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ نے توحید کامل اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ نے توکل کا مل کا مضمون بیا ن کیا ہے اور یہی مضمون قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ میں بیان کیا گیا ہے۔فرمایا کہہ دے کہ اللہ ہی اَحَدٌ ہے۔اَحَدٌ اس ذات کو کہتے ہیں جو ماسوا کو بھلا کر ہمارے سامنے آتی ہے اللہ تعالیٰ واحد بھی ہے اور احد بھی۔واحد کے معنے یہ ہیں کہ وہ سرچشمہ ہے تمام مخلوقات کا اور احد کے معنے ہیں کہ اس کے سامنے ہر چیز غائب ہوجاتی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ میں یہی بیان تھا کہ لوگ کہتے ہیں باپ کا احسان ہے مگر ہمیں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نظر ہی نہیں آتا۔سو ہم تو یہی کہتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہی ہے۔لوگ کہتےہیں کہ استاد کا احسان ہے مگر ہمیں تو کوئی استاد نظر نہیں آتا۔سوائے اللہ تعالیٰ کے۔سو ہم کہتے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔اسی طرح لوگ کہتے ہیں ہمسایہ کا احسان ہے مگر ہمیں تو سب احسان اللہ تعالیٰ کے ہی نظر آتے ہیں۔اس کے سوا کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا۔اس لئے ہم تو یہی کہتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔سب تعریف اللہ ہی کی ہے۔تو قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ میں اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ والا مضمون ہی بیان کیا گیاہے لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ میں بھی وہی ہے یعنی نہ کوئی اس سے پہلے ہے اور نہ پیچھے ہے۔وہی وہی ہے۔پھر وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًااَحَدٌ میں بھی وہی مضمون ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی کہے کہ یہ سب چیزیں