تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 382

دیا تو میں نے اسے لے کر سامنے رکھ دیا۔کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ مجھ سے کچھ چاہتے ہیں۔اس پر کسی نے خود ہی وہ قرآن مجید اٹھا کر آگے کر دیا۔یا شاید مجھے کہا کہ یہ آگے دے دو۔میں نے کسی صاحب سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ تھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ مرنے والے کو ثواب پہنچانے کا ایک طریق ایجاد کیا گیا ہے لوگوں نے سوچا کہ جو چیز بھی مرنے والے کے لئے صدقہ میں دیںگے وہ دس بیس یا پچاس سو روپیہ کی ہوگی اور اس لئے مرنے والے کو ثواب بھی محدود پہنچے گا اور شاید اس کے گناہوں کا کفارہ نہ ہو سکے۔اس لئے انہوں نے یہ سوچا کہ قرآن کریم صدقہ میں دیا جائے۔جس کی قیمت کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔اس خیال کو عملی شکل اب یہ دی جاتی ہے کہ ایک شخص قرآن کریم اپنے سے اگلے آدمی کو یہ کہہ کر کہ میں نے تیری مِلک کیا دے دیتا ہے اور وہ اگلے کو۔اس طرح گویا کئی قرآن کریم صدقہ میں دے دیئے جاتے ہیں اور سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس طرح مرنے والے کو بے انتہا ثواب پہنچا ہوگا۔اور بے انتہا گناہ اس کے معاف ہو گئے ہوں گے۔شاید اس رسم کا نام قُلْ اسی وجہ سے رکھا گیا کہ اس میں بھی صدقہ کی چیز چکر کھا تی ہے۔اگر مسلمان اس تعلیم پر جو اللہ تعالیٰ نے قُلْ کے لفظ میں ان کو دی ہے عمل کرتے تو یہ ذلت جو ان کی اس زمانہ میں ہورہی ہے کبھی نہ ہوتی۔اور آج ساری دنیا اللہ تعالیٰ کی توحید کو ماننے والی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہوتی۔کتنی چھوٹی سی بات ہے مگر مسلمانوں نے اسے نظر انداز کردیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایاتھا۔اِنَّ اَمْوَالَکُمْ وَدِمَاءَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھَذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِ کُمْ ھٰذَا۔پھرا س کے بعد فرمایا اَلَا لِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ۔(بخاری کتاب الـحج باب الـخطبۃ ایام منٰی) یعنی جو مسلمان حاضر ہیں، وہ سن لیں اور جو حاضر نہیں ان کو سننے والے یہ بات پہنچا دیں کہ تمہارے مال، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ویسے ہی حرام ہیں جیسے اس دن کی، اس مہینہ کی، اور اس شہر کی حرمت ہے۔میں نے جماعت میں یہ تحریک جاری کی تھی کہ جو دوست اس تعلیم کو سنیں وہ اسے آگے دوسروں تک پہنچائیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا۔گویا یہ تحریک بھی دراصل قُلْ کی طرح ہی تھی۔ایک سے دوسرے تک اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو قوم میں بیداری پیدا ہوتی ہے۔الغرض قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ میں یہ کہا گیا ہے کہ اے مسلما ن جو ایمان لاتا ہے۔ہماری ذات پر، ہمارے کلام پر اور اس میںسے بھی ہمارے قرآن پر۔ہم تم سے کہتے ہیں کہ جائو اور لوگوں کو جا کر کہو کہ اسلام کی تعلیم کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ ایک ہے۔