تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 381

یا د رکھے، اپنی نسلوں کو اس کی وصیت کرے اور دنیا میں اس کا اعلان کرتا رہے یہاں تک کہ دنیاایک مرکزی نقطہ پر جمع ہوجائے۔سورۃ الاخلاص کے شروع میں قُلْ کا لفظ لانے میں حکمت اور اس مقصد کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے قُلْ کا لفظ آخری تینوں سورتوں سے پہلے رکھ دیا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ پیغام ہمارا آگے دوسرے لوگوں تک پہنچادو۔جب دوسروں تک یہ پیغام پہنچے گا تو چونکہ وہ بھی قُلْ کا لفظ پڑھیں گے جس کے معنے ہیں۔کہو۔بیان کرو۔ان پر بھی فرض ہوجائے گا کہ وہ اس کلام کو آگے دوسروں تک پہنچائیں۔یہ ویسا ہی ہے جیسے آج کل لوگ خطوں میں لکھتے ہیں کہ جسے وہ پہنچے وہ آگے دس لوگوں تک وہی مضمون پہنچا دے گویا قرآن کریم اور اسلام کی تعلیم کاخلاصہ ان آخری تین سورتوں میں بیان فرما دیا اور واضح کر دیا کہ اے انسان جبکہ تو سارا قرآن پڑھ چکا۔اب ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ یہ ساری دنیا کے لئے ہے اور اسے لوگوں تک تم نے پہنچانا ہے۔مگر چونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہر انسان اس کے تمام مطالب پر حاوی ہو سکے اور نہ ہر شخص حافظ ہو سکتا ہے۔اس لئے ہم تمہاری آسانی کے لئے اس کا خلاصہ بیان کردیتے ہیں۔مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ قُلْ یعنی تم اس مفہوم کو آگے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرو اور تم سے سننے والے کچھ لوگوں کے سامنے بیان کریں اور وہ کچھ اور لوگوں کے یہاں تک کہ اسی طرح ہوتے ہوتے یہ مفہوم سب دنیا تک پہنچ جائے۔گویا لفظ قُلْ کے ذریعہ ہر مسلمان اس بات کا پابند ہو جاتاہے کہ وہ اس مضمون کو دوسروں تک پہنچائے یہ نہیں کہ عمر بھر میںایک دفعہ اس پر عمل کردیا بلکہ قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ کے جملہ کی بندش بتاتی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ جس کسی کو ملے جس مجلس میں جائے اور جس مقام پر جائے وہاں پر اس کا اعلان اس کے مدّ ِنظر ہو۔اور پھر جو اس اعلان کو سنیں وہ آگے دوسروں تک پہنچائیںحتی کہ یہ مضمون ساری دنیا تک پہنچ جائے اورشاید اسی بنا پر کسی نے اس رسم کا نام قُلْ رکھ دیا ہے جو موت کے بعد مسلمانوں میں ادا کی جاتی ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہمارے ایک غیر احمدی عزیز فوت ہوئے۔ان کے متعلقین نے مجھے بھی بلایا۔میں بھی گیا۔جب وہاں سب لوگ بیٹھ گئے تو میں نے دیکھا کہ ایک مولوی صاحب نے پہلے کچھ پڑھا اس کے بعد گھروالوں نے لا کے ہاتھ میں قرآن کریم کا ایک نسخہ دیا۔اس نے آگے دوسرے کے ہاتھ میں دیا۔پھر اس نے میرے ہاتھ میں دے دیا میں اس وقت چھوٹا تھا اور ان امور سے بالکل ناواقف۔اور مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ یہ کیابات ہے۔جائز ہے کہ ناجائز۔گو مجھے یاد ہے کہ میں دل میں کراہت کر رہا تھا آخر جب انہوںنے مجھے قرآن کریم