تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 380
وَالْوَاحِدُ اِسْـمٌ لِّمَنْ لَّا یُشَارِکُہٗ شَیْءٌ فِیْ صِفَاتِہٖ۔(اقرب) یعنی احد اور واحد جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان میں فرق یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے لئے احد کا لفظ استعمال ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی وحدانیت کو بیان کر تا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس کا اگر تصور کریں تو دوسری کسی ذات کا خیال بھی دل میں نہیں آتا۔اور جب اللہ تعالیٰ کے لئے واحد کا لفظ استعمال کیا جائے تو وہاں صفات کی وحدانیت مراد ہوتی ہے کہ وہ صفات میں واحد ہے یعنی اپنی صفات میں کامل ہے اوراس کے سوا کوئی اور وجود نہیں جو صفات کے لحاظ سے کامل ہو۔پس قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کے معنے ہوں گے اعلان کردو کہ پکی اور اصلی بات یہ ہے کہ اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔تفسیر۔جیسا کہ سورۂ لہب کی تفسیر میں بتایا جا چکا ہے۔سورۂ لہب پر قرآن کریم کا مضمون ختم ہے گویا سورۃ لہب آخری سورۃ ہے۔یہ ظاہر ہے کہ ہر شخص نہ قرآن کریم کے وسیع مطالب کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ان پر پورا عبور حاصل کرسکتاہے اور نہ اس کو ذہن میں رکھ سکتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے فائدہ کے لئے یہ طریق اختیار کیا کہ آخرمیں سورۃ لہب کے بعد تین سورتوں میں سارے قرآن کریم کا خلاصہ بیان کردیا۔جیسے ایک قابل مصنّف کتا ب کو شروع کرنے سے قبل ان مضامین کو اختصاراً بیان کر دیتا ہے جو اس کتاب میں بیان کئے جانے ہیں اور کتاب کے آخر میں پھر اپنے مضامین کا خلاصہ بیان کر دیتا ہے۔بعینہٖ اسی طرح قرآن کریم کے ابتدا میں سورۃ فاتحہ کورکھا گیا ہے۔اور اس میںاختصاراً ان مضامین کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔جو قرآن کریم میں بیان کئے جانے تھے۔پھر آخر میں سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس میں سارے قرآن مجید کا خلاصہ بیان کر دیا۔گو ایک رنگ میں سورۃ الاخلاص بھی فی ذاتہٖ قرآن کریم کا مکمل خلاصہ ہے۔کیونکہ قرآن کریم کے مضامین کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ ان مضامین کا نقطہ مرکزی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو ثابت کیا جائے اور اس کی صفات اور شان کو بیا ن کیا جائے۔چنانچہ سورۃ الاخلاص میں اختصار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید کامل اور اس کی صفات اور شان کو بیا ن کردیا گیا ہے۔گویاان معنوں میں سورۃ الاخلاص بھی قرآن کریم کا خلاصہ ہے۔لیکن اگر آخری تینوں سورتوں میں بیان ہونے والے مضمون کو من حیث المجموع دیکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ تینوں سورتیں سورۃ فاتحہ ہی ہیں۔گویا جس طرح سورۃ فاتحہ سے قرآن کریم کو شروع کیا گیا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے ختم بھی سورۃ فاتحہ پر کیا ہے اور اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہم نے خود قرآن کریم کا خلاصہ کر دیا ہے اب ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس خلاصہ کو