تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 377

سبب نزول اس سورۃ کے شان نزول کے متعلق تین قسم کی روایات بیان ہوئی ہیں۔پہلی روایت یہ آتی ہے کہ مشرکین مکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یَامُـحَمَّدُ اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ۔یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارے لئے اپنے رب کا نسب نامہ بیان کریں۔چنانچہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاخلاص نازل کی۔اور بتایا کہ نہ اس کا کوئی باپ ہے اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ اس کا کوئی برابری کرنے والا ہے۔(درمنثورسورۃ الاخلاص) یہ روایت مختلف طریقوں اور مختلف الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔بعض روایات میں یہ بیان ہواہے کہ ایک اعرابی نے یہ سوال کیا تھا اور بعض روایات میں یہ آتا ہے کہ یہ سوال قریش مکہ نے کیا تھا۔بہرحال سوال ایک ہی ہے کہ انہوں نے کہا کہ اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ یعنی اپنے رب کا نسب نامہ بیان کریں۔ظاہر ہے کہ یہ روایت اپنے اندر کوئی صداقت نہیں رکھتی۔کیونکہ یہ سوال عقلاً تبھی ہو سکتا ہے جب ان بتوں کا کوئی نسب نامہ ہوتا جن کی مشرکین مکہ عبادت کرتے تھے۔جب بتوں کاکوئی نسب نامہ تھا ہی نہیں تو مشرکین یہ سوال کر ہی کیسے سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا نسب نامہ بیان کیا جائے۔پس عقلاً سوال قریش مکّہ سے ہونا بعید ہے۔دوسری روایت یہ بیان کی گئی ہے کہ خیبر کے یہود آئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ خَلَقَ اللّٰہُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ مِنْ نُّوْرِ الْـحِجَابِ وَاٰدَمَ مِنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ وَاِبْلِیْسَ مِنْ لَھَبِ النَّارِ وَالسَّمَآءَ مِنْ دُخَانٍ وَالْاَرْضَ مِنْ زَبَدِ الْمَآءِ فَاَخْبِرْنَا عَنْ رَّبِّکَ۔یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور سے پید اکیا اورآدم کو مٹی سے اور ابلیس کو آگ کے شعلے سے اور آسمان کو دخان (گیسز) سے اور زمین کو پانی کی جھاگ سے۔پس ہمیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ کیسے پیدا ہوااو ر کس چیز سے پیداہوا؟ روایت میں آتا ہے کہ یہ سوال سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔یہاں تک کہ جبریل سورۃ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ لے کر اترے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو ان کے سوال کا جواب دیا۔( در منثور سورۃ الاخلاص) اگر اس روایت پر ذرا غور کیا جائے تو عقلی طور پر وہ سوال جو یہود کی طرف منسوب کیاگیا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا ناممکن معلوم ہوتاہے کیونکہ یہود اللہ کی ہستی کو مانتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ خالق تو ہے لیکن یہ سوال اس کے متعلق نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خود کس چیز سے پیداہوا۔ہاں اس کی صفات کے متعلق سوال ہوسکتا ہے کہ اس کے اندر کو ن کون سی صفات پائی جاتی ہیں۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ کہنا کہ یہود کا سوال سن کر خاموش ہوگئے یہ بھی عقلاً درست نہیں۔کیونکہ اس سوال تک قرآن کریم کا بیشتر حصہ نازل ہو چکا تھا۔اور اس کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جواب دے سکتے تھے۔یہود کا سوال کوئی ایسا مشکل نہ تھا