تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 34

نے درباریوں سے کہا تم ان لوگوں کو میرے پاس لاؤ۔معلوم ہوتا ہے تم ان سے اچھا سلوک نہیں کرتے۔میں انہیں روپے دے دوں گا اور یہ خوش ہو کر واپس چلے جائیں گے۔چنانچہ کسریٰ نے اسلامی لشکر کے جرنیل کو کہلا بھیجا میرے پاس اپنا وفد بھیجو جب وہ وفد کسریٰ کے دربار میں آیا تو کسریٰ نے کہا کہ تم لوگ وحشی اور مردار خور ہو اور گوہیں کھاتے ہو تمہارا بادشاہتوں کے ساتھ کیا واسطہ ہے۔میں تم کو روپے دیتا ہوں تم واپس جا کرانہیں خرچ کرو اور گھروں میں آرام سے بیٹھو۔اگر تم واپس جانے کے لئے تیار ہو جاؤ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہارے ہر افسر کو دو اشرفیاں اور ہر سپاہی کو ایک اشرفی دوں گا۔جب کسریٰ اپنی بات ختم کر چکا تو وفد کے سردار نے جو ایک صحابیؓ تھے جواب دیا کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے ٹھیک ہے۔ہم واقعہ میں ایسے ہی تھے ہم وحشی تھے، ہم مردار خور تھے، ہم گوہیں کھاتے تھے، ہم یتیموں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے، ہم اپنی ماؤں کے ساتھ شادیاں کرلیتے تھے اور ہمارے اندر یہ سارے نقائص موجود تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا جس کو ہم نے مان لیا۔اس لئے اب ہماری حالت اور ہے اب ہم وہ نہیں رہے جو پہلے تھے۔اب ہم اس قسم کی لالچوں میں آنے والے نہیں ہمارے اور تمہارے درمیان لڑائی چھڑچکی ہے اب اس کا فیصلہ میدان جنگ میں ہو گا اشرفیوں اور لالچوںسے نہ ہو گا۔یا ہم تم کو ماریں گے یا خود اس لڑائی میں شہید ہو جائیں گے۔بادشاہ نے اپنے ایک نوکر سے کہا جاؤ اور ایک مٹی کا بورا لاؤ۔وہ نوکر گیا اور ایک مٹی کا بورا لے آیا۔کسریٰ نے اس صحابی ؓ سے کہا۔ذرا آگے آؤ۔وہ آگے گئے تو بادشاہ نے اپنے نوکر سے کہا مٹی کا بورا ان کے سر پر رکھ دو۔وہ صحابی ؓ انکار بھی کر سکتے تھے مگر وہ بڑے ادب سے جھک گئے اور اس بورے کو اپنے سر پر اٹھا لیا۔کسریٰ نے کہا جاؤ میں تم کو کچھ بھی دینے کو تیار نہیں یہ مٹی میں تم پرڈالتا ہوں۔وہ صحابی ؓ چھلانگ لگا کر وہاں سے نکلے اور اپنے ساتھیوں سے کہا چلو بادشاہ نے خود اپنے ہاتھوں سے ایران کی زمین ہمارے حوالہ کر دی ہے۔بادشاہ مشرک تھا اور مشرک وہمی ہو تا ہے وہ یہ الفاظ سن کر کانپ اٹھا اور اس نے اپنے درباریوں سے کہا دوڑو اور انہیں واپس لاؤ۔مگر وہ اس وقت تک گھوڑوں پر سوار ہوکر بہت دور نکل چکے تھے(البدایۃ والنـھایۃ سنۃ ۱۴ھـ غزوۃ القادسیۃ)۔غرض حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس قوم اور ملک میں کام کیا وہ قوم اور ملک سب سے زیادہ متمدن تھے۔ان کے جو قدیم آثار ملتے ہیں ان سے بھی اس چیز کا پتہ چلتا ہے۔اس زمانہ کی عمارتوں کو لے لو آج کل کی عمارتیں ان کے سامنے بالکل ہیچ معلوم ہو تی ہیں۔سائنس کو دیکھو تو انہوں نے مردوں کو مصالحے لگا کر اس طرح رکھا ہے کہ وہ اب بھی زندہ معلوم ہو تے ہیں۔میں نے وہ ممیاں خود دیکھی ہیں ان پر سے کپڑے اتار دو تو اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی آدمی سویا ہوا ہے۔صرف کچھ دبلا سا ہوگیا