تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 373
کا تیسرا حصہ ہے، اس لئے سورۃ اخلاص بھی قرآن کریم کا تیسرا حصہ ہے۔درحقیقت قرآن کریم کاکام توحید کو ثابت کرنا اور غلط عقائد کو مٹانا ہے۔پس جب اس سورۃ نے نہایت جامع مانع الفاظ کے ساتھ مختصر طور پر وہ مضمون ادا کردیا جس سے غلط عقائد کا ابطال ہوتاہے اور توحید کی حقیقت کو بیان کر دیا۔تو یہ سورۃ ثلث قرآن کیا بلکہ سارے قرآن کے برابر ہوگئی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورۃ کو ثلث قرار دینا مبالغہ نہیں۔بلکہ اس کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر ہے۔چنانچہ اسی اہمیت کے پیش نظر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اعظم السور کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔(روح المعانی مقدمۃ سورۃ الاخلاص ) سورۃ الاخلاص کے ساتھ نزول کے وقت سترہزار فرشتے نازل ہوئے روایات میں آتا ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نازل ہوئے۔(روح البیان سورۃ الاخلاص) یہ روایت بھی اس سورۃ کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے اس قسم کی روایات کے متعلق جن میں سورتوں کے ساتھ فرشتوں کے نزول کا ذکر ہوتا ہے،یاد رکھنا چاہیے کہ اس سے نزول کے وقت کی حفاظت مراد نہیں ہوتی بلکہ نزول کے بعد کی حفاظت مرا د ہوتی ہے۔اور وہ اس طرح کہ ہر سورۃ کسی خاص مضمون کے بارہ میں ہوتی ہے اور بعض دفعہ اس میں پیشگوئیاں ہوتی ہیں جن کے پو را ہونے پراس سورۃ کی سچائی کا انحصار ہوتا ہے۔یہ پیشگوئیاں بعض دفعہ طبعی تغیرات کے متعلق ہوتی ہیں او ربعض دفعہ انسانی اعمال کے متعلق۔انسانی اعمال کے متعلق جو پیشگوئیاں ہوتی ہیں وہ اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتی ہیںکہ جن کے عذاب کی ان پیشگوئیوں میں خبرہو۔وہ اس عذاب کو ٹالنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔اور چونکہ بالعموم غیر معمولی طور پر مخالف حالات میں کی جاتی ہیں۔اس لئے دنیوی سامانوں کے لحاظ سے ان کا پورا ہونا بظاہر ناممکن یا غیر اغلب نظر آتا ہے۔اور اسی وقت ان کے پورا ہونے کی کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی امداد کا انتظام کیا جائے پس جس سورۃ میں اس قسم کی پیشگوئیاں ہوں جن کے باطل کرنے کے متعلق زبردست قوموں نے زور لگانا ہو۔ان کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان ملائکہ کو جو دنیا کے مختلف کاموں پر بطور مدبر مقرر ہیں، ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسے سامان پیدا کریں کہ وہ پیشگوئیاں بغیر روک کے پوری ہوجائیں۔گوسورۃ الاخلاص میں کوئی پیشگوئی نہیں۔لیکن چونکہ اس میں توحید باری کا مضمون ہے اور جیسا کہ اوپر کی سطور میںبیان ہو چکاہے کہ توحید کے خلاف آخری زمانہ میں دوخطرناک فتنے اٹھنے والے تھے اور وہ ایسے فتنے تھے کہ اگر آسمانی فرشتوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ان فتنوں کے مٹانے کا انتظام نہ فرماتا تو اسلامی طاقتیں ان کا مقابلہ نہیں