تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 371
ہیں تَقَشْقَشَ الْمَرِیْضُ عَـمَّا بِہٖ۔یعنی بیمار نے اپنی اس بیماری سے شفا پائی جس میں مبتلاتھا۔چونکہ یہ سورۃ شرک اور نفاق سے انسان کو بری کر کے خدا تعالیٰ کا خالص بندہ بنادیتی ہے اس واسطے اس سورۃ کا نام مُقَشْقِشَۃ رکھا گیا ہے۔۱۰۔سورۃالمعوّذہ۔کیونکہ احادیث میں آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان بن مظعون کے پاس تشریف لے گئے اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر ان پر پھونکا۔اور ان کو یہ ہدایت کی کہ ان سورتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کیا کریں۔۱۱۔سورۃ الصمد۔کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی صفت صمد کا ذکر آتا ہے جس میں اس بات کو بیان کیاگیا ہے کہ کائنات کاہر ذرہ اس کا محتاج ہے۔۱۲۔سورۃ الاساس۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اُسِّسَتِ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُوْنَ السَّبْعُ عَلٰی قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ یعنی ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کا قیام قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ کی وجہ سے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تثلیث کا عقیدہ آسمانوں اور زمین کی بربادی کا موجب ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ(مریم:۹۱،۹۲) قریب ہے کہ آسمان اس گندے عقیدہ کی وجہ سے پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ گر کر ریزہ ریزہ ہوجائیں اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا(الانبیآء:۲۳) کہ اگر زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہوتا تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہوجاتا گویا توحید کا عقیدہ اس دنیا کی آبادی کی بنیاد ہے۔۱۳۔سورۃ المانعہ۔کیونکہ یہ عذاب قبر سے بچاتی ہے۔حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا اَعْطَیْتُکَ سُوْرَۃَ الْاِخْلَاصِ وَھِیَ مِنْ ذَخَائِرِ کُنُوْزِعَرْشِیْ وَھِیَ الْمَانِعَۃُ تَمْنَعُ عَذَابَ الْقَبْرِ وَ نَفَحَاتِ النِّیْرَانِ کہ میں نے تمہیں سورۃ الاخلاص دی ہے اور یہ میرے عرش کے خزانوں کے ذخائر میں سے ایک ہے اور یہ عذاب قبر اور آگ کے شعلوں سے بچانے والی ہے کیونکہ جو سچی توحید پر قائم ہو جائے اس کو آگ چھو نہیں سکتی۔۱۴۔سورۃ المحضر۔کیونکہ جب یہ پڑھی جائے تو فرشتے اس کو سننے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔۱۵۔سورۃ البراءۃ۔یعنی آگ سے یا شرک سے محفوظ رکھنے والی چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ سورۃ پڑھتے سنا۔تو آپ نے فرمایا اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الشِّـرْکِ کہ یہ شخص تو شرک