تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 362
لڑائی کے متعلق متفق ہیں۔لیکن قرآن کریم بائبل سے ایک بات زائد طور پر بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جہاں تک ان کے سیاسی نظریوں کا سوال ہے وہ دونوں ہی اس لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے اور دونوں میں سے کوئی بھی اپنی ہستی کو اس جنگ کے بعد زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھ سکے گا۔احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ جب دجّال اور یاجوج و ماجوج کے فتنے برپاہوں گے اور اسلام کمزور ہوجائے گا توا للہ تعالیٰ اسلام کی حفاظت کے لئے مسیح موعود کو نازل کرے گااور وہ مشرق میں ظاہر ہوگا اور اس کے آنے کے بعد دجّال ہلاک ہو جائے گا۔اس وقت مسلمانوں کے پاس مادی طاقت نہ ہوگی۔لیکن مسیح موعود کی جماعت دعائوں اور تبلیغ کے ساتھ کام کرتی چلی جائے گی اور یاجوج و ماجوج آسمانی عذابوں کے ساتھ تباہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ پھر اسلام کو غالب کر دے گا اور وہ دنیا کو کہے گا کہ تیری برکت تجھ میںپھر لوٹ آئے اور تھوڑا رزق لوگوں کے لئے کافی ہوگا۔حرص مٹ جائے گی اور لوگ مادیت کی بجائے روحانیت کی طرف مائل ہوجائیں گے۔یہاں تک کہ اسلام غالب ہو جائے گا۔الغرض اسلام کو مٹانے کے لئے جو خطرناک فتنے آخری زمانے میں پیدا ہونے والے تھے سورۂ لہب میں اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق اور ان کے انجام کے متعلق پیشگوئی فرمائی ہے اور کہا ہے تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ۔یعنی اسلام کے خلاف آگ بھڑکانے والی اقوام جو آخری زمانہ میں پیدا ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے ساتھیوں کو تباہ کرے گا۔جیسا کے حل لغت میں لکھا جا چکا ہے تَبَّ کے معنے برباد ہونے اور ہلاک ہونے کے ہیں۔اور جب کسی کا مقصد حاصل نہ ہو اس وقت بھی تَبَّ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔مفسرین نے تَبَّتْ کے معنے صَفِرَتْ مِنْ کُلِّ خَیْرٍ کے بھی کئے ہیں۔یعنی ہر قسم کی خیرو برکت سے خالی رہنا۔(البحر المحیط سورۃ اللہب) یَدٌ کے معنے ہاتھ کے بھی ہیں اور عزت و رتبہ۔قوت و طاقت اور غلبہ و بادشاہت کے بھی ہیں۔اسی طرح یَد کا لفظ جماعت پر بھی بولا جاتا ہے۔پس تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ کے معنے ہوں گے۔۱۔ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہو گئے۔۲۔ابو لہب کے دونوں جتھے برباد ہوگئے اور ان کو ان کا مقصد حاصل نہ ہوا۔۳۔ابو لہب کی عزتیں، قوتیں، بادشاہت اور غلبہ سب ختم ہوگئے۔۴۔ابو لہب کے ساتھ تعلق رکھنے والی دونوں جماعتیں ہر قسم کے نفع اور خیر سے محروم رہیں۔