تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 361

نعمتوں کا مستحق ہے۔آخر ان دونوں نظریوں کے سوا خالص عقل اور کیا نظریہ پیش کر سکتی ہے۔صرف مذہب ہی ہے جو خدا اور اخلاق کو درمیان میں لا کر ایک درمیانی راہ پیش کرتا ہے۔ورنہ عقل تو ان دونوں نظریوں کے سوا کسی جگہ نہیں ٹھہرتی۔یاجوج و ماجوج کی لڑائی کے متعلق بائبل کی پیشگوئی یاجوج و ماجوج کے متعلق بائبل میں بھی پیشگوئی پائی جاتی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آخری زمانہ کی ان دونوں طاقتوں ( یعنی یاجوج و ماجوج ) میں رقابت بڑھتے بڑھتے آخر لڑائی کا موجب ہو جائے گی اور وہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف آتشین اسلحہ کا استعمال کریں گی۔چنانچہ حزقی ایل باب ۳۸ آیت ۱۸ تا ۲۲ میں آتا ہے :۔’’ کہ ان ایام میں جب جوج اسرائیل کی مملکت پر چڑھائی کرے گا تو میرا قہر میرے چہرہ سے نمایاں ہوگا۔خداوند خدا فرماتا ہے کیونکہ میں نے اپنی غیرت اور آتشِ قہر میں فرمایا کہ یقیناً اس روز اسرائیل کی سرزمین میں سخت زلزلہ آئے گا۔یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں اورآسمان کے پرندے اور میدان کے چرندے اور سب کیڑے مکوڑے جو زمین پر رینگتے پھرتے ہیں اور تمام انسان جو روئے زمین پر ہیں۔میرے حضور تھر تھرائیں گے اور پہاڑ گر پڑیں گے اور کراڑے بیٹھ جائیں گے اور ہر ایک دیوار زمین پر گر پڑے گی۔اور میں اپنے سب پہاڑوں سے اس پر تلوار طلب کروں گا۔خدا وند خدا فرماتا ہے اور ہر ایک انسان کی تلوار اس کے بھائی پر چلے گی اور میں وبا بھیج کر اور خونریزی کر کے اسے سزا دوں گا اور اس پر اور اس کے لشکروں پر اور ان بہت سے لوگوں پر جو اس کے ساتھ ہیں۔شدت کا مینہ اور بڑے بڑے اَولے اور آگ اور گندھک برسائوں گا۔‘‘ پھر باب ۳۹ آیت ۴ تا ۶ میں لکھا ہے :۔’’ تو اسرائیل کے پہاڑوں پر اپنے سب لشکر اور حمایتیوں سمیت گر جائے گا اور میں تجھے ہر قسم کے شکاری پرندوں اور میدان کے درندوں کو دوں گا کہ کھا جائیں۔تُو کھلے میدان میں گرے گا کیونکہ میں ہی نے کہا۔خداوند فرماتا ہے اور میں ماجوج پر اور ان پر جو بحری ممالک میں امن سے سکونت کرتے ہیں آگ بھیجوں گا۔‘‘ یاجوج و ماجوج کے متعلق قرآن کریم اور بائبل کی پیشگوئیوں میں ایک فرق قرآن کریم اور بائبل کی وہ آیات جو اوپر لکھی جا چکی ہیں ان سے ظاہرہوتا ہے کہ بائبل اور قرآن کریم دونوں یاجوج و ماجوج کی